پنجاب میں کسانوں کیلئے بڑا ریلیف، 9 لاکھ کسان کارڈ جاری، 360 ارب کے بلاسود قرضے، 50 ہزار گرین ٹریکٹرز کی تقسیم کا اعلان

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت محکمہ زراعت کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کسان کارڈ پروگرام، بلاسود زرعی قرضوں اور زرعی میکانائزیشن منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں اب تک 9 لاکھ کسان کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید 50 ہزار کاشتکاروں کو پروگرام میں شامل کرنے کے بعد مجموعی تعداد 10 لاکھ کے ہدف کی جانب بڑھ رہی ہے۔
حکام کے مطابق کسانوں کو اب تک 360 ارب روپے کے بلاسود قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ کسان کارڈ کے تحت قرضوں کی واپسی کی شرح 99 فیصد رہی۔ جاری کیے گئے قرضوں میں سے 80 فیصد رقم کھادوں کی خریداری پر خرچ کی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ خریف سیزن کے لیے 116 ارب روپے کے قرضے مختص کیے گئے، جن میں سے 62 ارب روپے استعمال ہو چکے ہیں، جبکہ خریف قرضوں کا 75 فیصد حصہ کھاد کی خریداری پر خرچ کیا گیا۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ بین الاقوامی آڈٹ فرم KPMG کسان کارڈ پروگرام کے اثرات کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ 30 ستمبر تک پیش کرے گی، جبکہ پروگرام کو عالمی سطح پر بھی متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کسانوں کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا ہے اور زرعی شعبے کی ترقی اولین ترجیح ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب میں تین مراحل کے تحت 34 ہزار گرین ٹریکٹرز تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ بریفنگ کے مطابق 41 فیصد مستفید کاشتکار ایسے ہیں جنہیں زندگی میں پہلی بار ٹریکٹر ملا، جبکہ 20 فیصد کسانوں نے ٹریکٹر کے ساتھ جدید زرعی آلات بھی خریدے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ 32 فیصد مستفید کاشتکار دیگر کسانوں کو زرعی خدمات بھی فراہم کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار تین برس کے دوران 50 ہزار گرین ٹریکٹرز فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کسی حکومت نے کسانوں کو اتنی بڑی تعداد میں ٹریکٹرز نہیں دیے، جبکہ ٹریکٹرز کی تقسیم کا پورا عمل کمپیوٹرائزڈ کرکے انسانی مداخلت مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔



