پنجاب اسمبلی نے بجٹ2026-27کی منظوری دیدی

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)پنجاب اسمبلی میں بجٹ گرانٹس کی منظوری کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید ہنگامہ آرائی،، سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے حکومت کی کارکردگی، یومِ عاشور کے انتظامات اور ترقیاتی منصوبوں کا دفاع کیا جبکہ اپوزیشن نے شدید احتجاج، نعرے بازی، حکومتی رویے پر اعتراضات اٹھائے۔ اپوزیشن کے واک آوٹ کے بعد ایوان نے 131 گرانٹس اور فنانس بل کی منظوری دے دی، ایوان کی تمام صورتحال پر کی یہ رپورٹ،

پنجاب اسمبلی کا اجلاس 1 گھنٹہ 47 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس میں ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ نے محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے پر پنجاب حکومت، پولیس، رینجرز، سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ یومِ عاشور کے انتظامات کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے، ایک لاکھ چوبیس ہزار اہلکار سکیورٹی پر تعینات رہے، پہلی مرتبہ تھرمل ڈرونز، کیو آر کوڈ، سیف سٹی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فول پروف سکیورٹی فراہم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی 437 ترقیاتی سکیمیں ہیں جن میں سے 340 سے زائد منظور ہو چکی ہیں، ترقیاتی منصوبوں، ماحولیات، کلائمیٹ چینج، سموگ کنٹرول، جنگلات، صاف پانی، جنوبی پنجاب اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جبکہ اپوزیشن نے نہ بجٹ پڑھا اور نہ ہی حقائق کا مطالعہ کیا۔

مریم اورنگزیب کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر شدید نعرے بازی کرتے رہے جس سے ایوان کا ماحول کشیدہ ہوگیا۔ حکومتی ارکان نے بھی جوابی نعرے لگائے جبکہ معاون خصوصی ذیشان ملک اور وزیر تعلیم رانا سکندر حیات گھڑیاں لہرا کر احتجاج کرتے رہے۔ بعد ازاں وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمن نے ڈپٹی سپیکر سے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن کے جن ارکان نے قیادت کے خلاف نعرے بازی اور نامناسب گفتگو کی ہے انہیں معطل کیا جائے کیونکہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں اس حوالے سے اتفاق رائے ہو چکا تھا۔ اپوزیشن نے گفتگو کا موقع نہ ملنے پر پہلے احتجاج کیا، پھر کورم کی نشاندہی کی اور آخرکار بجٹ گرانٹس کی منظوری کے دوران اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر گئی، جس کے بعد حکومت نے بجٹ گرانٹس کی منظوری کا عمل جاری رکھا۔

مزید خبریں

Back to top button