بھارت میں نوجوانوں کا احتجاج شدت اختیار کر گیا، “کاکروچ جنتا پارٹی” کی تحریک میں تیزی کا دعویٰ

نئی دہلی(ویب ڈیسک) بھارت میں مبینہ طور پر نوجوانوں کی جانب سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک میں شدت آ گئی ہے، جسے بعض رپورٹس میں “کاکروچ جنتا پارٹی” سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

عالمی جریدے الجزیرہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نئی دہلی میں جاری احتجاجی دھرنا اس وقت تک جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پر دھان اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیتے۔ شدید گرمی کے باوجود مظاہرین نے راتیں سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر گزاری۔

رپورٹ کے مطابق اس تحریک کا آغاز آن لائن ہوا تھا جسے بعد ازاں سڑکوں پر احتجاج میں تبدیل کر دیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ امتحانی پرچوں کے بار بار لیک ہونے اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے نوجوانوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔

بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کے مطابق تحریک کے رہنما ابھجیت دیپکے نے نہ صرف طلبہ بلکہ کسانوں سے بھی احتجاج میں شمولیت کی اپیل کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب طلبہ مشکلات کا شکار تھے تو کسانوں نے ان کا ساتھ دیا، اب وقت ہے کہ کسان بھی طلبہ کا ساتھ دیں۔

مزید برآں، ساوتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے تجزیے کے مطابق یہ تحریک خطے میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاس ہے، جو سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال میں ہونے والی حالیہ عوامی تحریکوں سے مشابہت رکھتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ احتجاج بھارت میں تعلیمی نظام اور روزگار کے مسائل پر بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کو ظاہر کرتا ہے، جس نے حکومتی پالیسیوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button