یورپ سخت گرمی کی لپیٹ میں، فرانس میں 18 افراد ہلاک

لندن(جانوڈاٹ پی کے)یورپ کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، فرانس میں سخت گرمی کے باعث 5 افراد ہلاک ہوگئے جن میں دو کم عمر بچے بھی شامل ہیں جب کہ نہاتے ہوئے 13 افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق وسطی فرانس کے شہر پواتیے میں گرمی کا 78 سالہ ریکاڈ ٹوٹ گیا جہاں زیادہ سے زیادہ  درجہ حرارت 41.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ مغربی فرانس کے علاقے بوردو میں درجہ حرارت 41.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جس نےگزشتہ سال اگست میں قائم ہونے والا ریکارڈ توڑ دیا۔

فرانس میں شدید گرمی کے باعث کئی اسکول بندکر دیےگئے یا ان کے اوقات کار میں تبدیلی کر دی گئی، متعدد ٹرین سروسز بھی بند کردی گئیں۔

فرانس کے جنوب مشرقی شہر کارپانترا میں سخت گرمی میں گھر کے باہر کھڑی گاڑی میں دو بچے بے ہوش گئے، بچوں کی عمریں 2 اور 4 سال تھیں، امدادی کارکنوں نے انہیں بچانے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ حکام کا کہنا ہےکہ بچوں کی موت کی اصل وجہ کا تعین ابھی ہونا باقی ہے، تاہم شدید گرمی کو سب سے بڑا سبب سمجھا جا رہا ہے۔

  اس کے علاوہ فرانس کے مختلف علاقوں میں تین بزرگ افراد بھی گرمی کی شدت سے جان کی بازی ہار گئے، جب کہ  سوئمنگ پول اور دیگر پانی والی جگہوں پر نہاتے ہوئے 13 افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے۔ حکام  نے لوگوں کو ہدایت دی ہےکہ صرف نگرانی والے مقامات پر ہی تیراکی کریں۔

دوسری جانب برطانیہ کے محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہےکہ اس ہفتے جون کے مہینے کے درجۂ حرارت کے ریکارڈ بھی ٹوٹ سکتے ہیں۔انگلینڈ اور ویلز میں شدید گرمی کی ریڈ وارننگ جاری کی گئی ہے اور  درجہ حرارت 38 درجےکو چھونےکا خدشہ ہے۔

ریڈ وارننگ کا مطلب ہے کہ یہ گرمی جان لیوا بھی ہوسکتی ہے۔ بجلی، روڈ اور ریلوے نظام متاثر ہوسکتا ہے۔

اسپین، اٹلی اور بیلجیئم میں بھی شدید گرمی کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button