برطانیہ،بریگزٹ ڈیل10سال میں6وزرائےاعظم نگل گئی

ڈیوڈکیمرون کے2016میں مستعفی ہونے کے بعدسےاب تک6وزرائے اعظم عہدہ چھوڑ چکے

لندن(جانوڈاٹ پی کے)برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر بھی مستعفی ہوگئے،2016 میں مسلسل دوسری بار وزیراعظم بننے والے ڈیوڈ کیمرون کے بعد کوئی بھی وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری نہیں کرسکا۔

یاد رہے کہ ڈیوڈ کیمرون مئی2015کے عام انتخابات میں واضح اکثریت کے ساتھ دوسری مدت کے لیے بھی وزیراعظم منتخب ہوئے تھے اور ان کی حکومت2020تک چلنی تھی۔

تاہم جون 2016 میں برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی ’’بریگزٹ‘‘ پر ریفرنڈم کرایا جس میں عوام نے یورپی یونین چھوڑنے کے حق میں ووٹ دیا۔وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ذاتی طور پر یورپی یونین میں رہنے کے حق میں تھے اور اس کے لیے وہ ریفرنڈم کے دوران باقاعدہ مہم بھی چلاتے رہے تھے۔جب بریگزٹ ریفرنڈم میں ڈیوڈ کیمرون کی رائے کے برخلاف فیصلہ آیا تو انھوں نے سیاسی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔یعنی وہ محض ایک سال ہی وزیراعظم رہے۔

ان کے مستعفی ہونے کے بعد وزارت عظمیٰ کی حقدار تھریسامے ہوئیں جنھوں نے جولائی2016میں عہدہ سنبھالا اور یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے معاملات کو سنبھالنے کی کوشش کی۔تاہم ان کی بنائی گئی پالیسی کو بار بار مسترد کیا گیا اور برگزٹ ڈیل کے عوامی امنگوں کے مطابق طے نہ ہونے کے باعث تھریسامے کو اپنی جماعت میں بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 3 سال کوششوں کے باوجود ناکامی پر مستعفی ہوگئیں۔

تھریسامے کے جولائی 2019 میں مستعفی ہونے کے بعد بورس جانسن نے بطور وزیراعظم عہدہ سنبھالا اور بریگزٹ ڈیل کرنے میں کامیاب ہوگئے تاہم کورونا پابندیوں کی خلاف ورزی سے متعلق مشہور زمانہ پارٹی گیٹ اسکینڈل، اخلاقی تنازعات اور درجنوں وزرا کے اجتماعی استعفوں کے بعد اپنی جماعت کا اعتماد کھو بیٹھے اور استعفیٰ دے دیا۔

بورس جانسن بھی تقریباً تین سال ہی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہے ان کے بعد لز ٹرس نے ستمبر 2022 میں یہ عہد سنبھالا وہ برطانیہ کی تاریخ کی مختصر ترین مدت تک رہنے والی وزیراعظم ثابت ہوئیں۔

ان کے متنازع ’’منی بجٹ‘‘ نے مالیاتی منڈیوں میں شدید ہلچل مچا دی۔ پاؤنڈ کی قدر گر گئی اور حکمران جماعت نے ان سے حمایت واپس لے لی جس کے بعد وہ صرف44دن بعد مستعفی ہوگئیں۔

لزٹرس کے بعد قرعہ فال بھارتی نژاد رشی سونک کے نام نکلا۔ انھوں نے اکتوبر2022میں عہدہ سنھالا اور معاشی استحکام بحال کرنے کی کوشش کی لیکن مہنگائی، معاشی سست روی، غیر قانونی تارکین وطن کا بحران اور عوامی ناراضی کے باعث کنزرویٹو پارٹی عام انتخابات میں تاریخی شکست سے دوچار ہوئی جس کے بعد وہ اقتدار سے باہر ہوگئے۔

رشی سونک کی حکومتی ناکامیوں کا خمیازہ ان کی جماعت کنزرویٹو پارٹی کو بھگتنا پڑا اور طویل عرصے بعد ملک میں لیبر پارٹی کی حکومت بنی جبکہ وزیراعظم کے لیے سر کیئر اسٹارمر کو چنا گیا۔

لیبر پارٹی کو2024میں تاریخی کامیابی دلانے والے کیئر اسٹارمر2سال بھی مکمل نہ کر سکے۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں خراب نتائج،پارٹی کے اندر اختلافات،متعدد وزرا کے استعفے،پالیسیوں پر تنقید اور ارکان پارلیمنٹ کی بڑھتی ہوئی ناراضی کے بعد انہوں نے پارٹی قیادت چھوڑنے اور وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔

مزید خبریں

Back to top button