گلگت بلتستان میں اقتدار کی رسہ کشی: ن لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے

لاہور: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)
گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج کے بعد حکومتی اتحاد کے اندر کھینچا تانی نے سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔ وفاقی حکومت میں شامل دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان شراکتِ اقتدار کا فارمولا تو طے پا گیا ہے جس کے تحت وزیر اعلیٰ کا عہدہ پیپلز پارٹی کے پاس اور گورنر و ڈپٹی سپیکر کا منصب مسلم لیگ ن کے حصے میں آیا ہے، لیکن یہ سمجھوتہ حکومتی خیمے میں شدید بے چینی کا باعث بن چکا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے مسلم لیگ ن پر انتخاب میں ردوبدل کے الزامات اور انہیں موقع پرست قرار دینے کے بعد تلخیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
مسلم لیگ ن کے اندرونی حلقے اس ڈیل کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اسے قیادت کی کمزوری سے تعبیر کر رہے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے بھی اس معاملے پر خاموشی توڑتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رویے کو نامناسب قرار دیا ہے اور باور کرایا ہے کہ مسلم لیگ ن نے خود رابطہ کر کے پیپلز پارٹی کو حکومت سازی میں حمایت کا موقع دیا تھا تاکہ سیاسی جوڑ توڑ سے بچا جا سکے۔ سعد رفیق نے واضح کیا ہے کہ یکطرفہ احترام کا سلسلہ اب مزید نہیں چل سکتا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی نے اتحادیوں پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی ترک نہ کی تو یہ کشیدگی وفاقی حکومت کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
وی لاگ مکمل دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔




