بلاول بھٹو کا حکومت کو الٹی میٹم:’’شہباز شریف فیصلہ کریں، عمران خان بننا ہے یا مدت پوری کرنی ہے؟‘‘

کراچی(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)اسلام آباد میں سیاسی گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی ہے، جہاں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کی گئی جذباتی اور سخت تقریر نے حکومتی ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ بلاول بھٹو نے مسلم لیگ ن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی ہر قومی مفاد میں حکومت کا ساتھ دے رہی ہے اور بجٹ بھی پاس کروائے گی، تاہم گلگت بلتستان میں ان کے مینڈیٹ کو چرانے کی کوششیں ناقابل برداشت ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ خود کو عمران خان کے راستے پر ڈال کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا چاہتے ہیں یا اتحادیوں کے تحفظات دور کر کے اپنی مدت پوری کرنا چاہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، بلاول بھٹو نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب وہ حکومت کے ہر فیصلے یا نون لیگ کے ذاتی مفادات میں ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ جہاں ایک طرف نون لیگ کے رہنما انہیں جیت کی مبارکباد دیتے ہیں، وہیں دوسری طرف وہاں ان کا مینڈیٹ چرانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ بلاول بھٹو کے اس الٹی میٹم کے بعد وفاقی وزراء اسحاق ڈار اور اعظم نذیر تارڑ متحرک ہو گئے، جس کے بعد محسن نقوی کی ثالثی سے بلاول بھٹو قومی اسمبلی میں جانے پر آمادہ ہوئے۔ اس تمام سیاسی ڈرامے، دھاندلی کے الزامات اور حکومت کے ساتھ بڑھتی ہوئی دوریوں کے پسِ پردہ محرکات جاننے کے لیے امداد سومرو کا وی لاگ مکمل ملاحظہ کریں۔




