پیپلز پارٹی نےملازمین کی تنخواہوں میں50فیصد اضافے کا مطالبہ کردیا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)حکومت اورپیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پراختلافات ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم وفاقی بجٹ سےقبل حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان اہم مالیاتی معاملات پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔
پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور کم از کم اجرت کے معاملے پر اختلافات برقرار ہے،بنیادی پے سکیل میں اضافے پرحکومت اورپیپلزپارٹی آمنے سامنے ہیں، پیپلزپارٹی نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں50فیصد اضافے کا مطالبہ کر دیا ہے۔حکومت نے15فیصد سے زائد اضافے کی صورت میں مشکلات میں اضافے کی وجہ بیان کی تاہم بجٹ منظوری سے قبل حکومت کو اتحادیوں کو اعتماد میں لینا چیلنج ثابت ہو رہاہے لیکن تنخواہوں، ایڈہاک ریلیف اور کم از کم اجرت پر مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
پیپلزپارٹی نے تمام سابقہ ایڈہاک ریلیف بنیادی پے اسکیل میں ضم کرنےکا مطالبہ بھی کیا ، حکومت کا موقف ہے کہ مالی گنجائش محدود ہے، تمام ایڈہاک ریلیف ضم کرنا ممکن نہیں ہے۔وفاقی حکومت ملازمین کے لیے صرف ایک نیا ایڈہاک ریلیف دینے پر غور کر ہی ہے، کم ازکم اجرت بڑھانے کے معاملے پربھی حکومت اور پیپلزپارٹی میں اختلاف ہے،پیپلزپارٹی نے کم از کم ماہانہ اجرت60ہزار روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے،وفاقی حکومت کی کم از کم اجرت میں محدود اضافہ کرنے کی تجویز ہے،حکومت زیادہ سے زیادہ45ہزار روپے تک اجرت کرنے پر آمادہ ہے ۔



