ہر ہائی کورٹ آزاد ، سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت نہیں، جسٹس عامر فاروق

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ہائی کورٹس نہ سپریم کورٹ کے ماتحت ہیں اور نہ ہی وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت سمجھی جا سکتی ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ پاکستان میں موجود پانچوں ہائی کورٹس مکمل طور پر خودمختار آئینی عدالتیں ہیں، اور ان کی عدالتی و انتظامی آزادی کو کسی بھی سطح پر متاثر نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ضلعی عدالتیں اور دیگر ماتحت عدالتیں ہائی کورٹس کے تحت کام کرتی ہیں، تاہم ہائی کورٹس کے فیصلے سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیے جا سکتے ہیں، لیکن اس بنیاد پر ہائی کورٹ کو ماتحت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ہائی کورٹس کو مقدمات جلد نمٹانے سے متعلق ہدایات انتہائی احتیاط اور مناسب الفاظ میں جاری کی جانی چاہئیں، کیونکہ ہر ہائی کورٹ اپنا آزاد روسٹر اور کیس مینجمنٹ سسٹم رکھتی ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی قسم کی ایسی ہدایت جو ہائی کورٹ کی پالیسی یا کیس فکسنگ پر اثر انداز ہو، عدالتی آزادی میں مداخلت کے مترادف ہو سکتی ہے۔
عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ متعلقہ رٹ پٹیشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التواء تصور کی جائے گی، جبکہ توقع ظاہر کی گئی کہ کیس کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔



