صوبائی حکومت کی سیکڑوں ایکڑ زمین نجی افراد کو الاٹ کرنے کا وفاقی لینڈ کمیشن کا حکم کالعدم قرار

پشاور(جانوڈاٹ پی کے) پشاور ہائیکورٹ نے تنگی چارسدہ میں صوبائی حکومت کی کروڑوں روپے مالیت کی سیکڑوں ایکڑ اراضی نجی افراد کو الاٹ کرنے کا فیڈرل لینڈ کمشنر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

جسٹس Syed Arshad Ali نے صوبائی حکومت کی جانب سے دائر درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے الاٹمنٹ آرڈر منسوخ کردیا۔ عدالت نے وفاقی لینڈ کمیشن کے رکن کی جانب سے اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال پر سخت برہمی کا اظہار بھی کیا۔

عدالت نے وزارتِ قانون کو وفاقی لینڈ کمیشن کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے رپورٹ ہائیکورٹ رجسٹرار کے سامنے پیش کی جائے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ صوبائی محکمہ لائیو اسٹاک کی کروڑوں روپے مالیت کی اراضی نجی افراد کو الاٹ کرنا غیر قانونی اقدام تھا۔ عدالت کے مطابق لینڈ کمیشن نے ایسے معاملے کو دوبارہ کھولا جس پر اعلیٰ عدالتیں پہلے ہی فیصلہ دے چکی تھیں۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل تمیور خان کے مطابق تنگی ہری چند میں واقع صوبائی حکومت کی تقریباً 500 ایکڑ زمین وفاقی لینڈ کمیشن نے نجی افراد کو الاٹ کی تھی، حالانکہ یہ زمین پہلے ہی ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کی جانب سے صوبائی حکومت کی ملکیت قرار دی جا چکی تھی۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ زمین 1959 سے مارشل لا قانون کے تحت حکومت کی تحویل میں تھی، تاہم بعض افراد نے عدالتی فیصلوں کے باوجود دوبارہ وفاقی لینڈ کمیشن سے رجوع کیا، جس پر کمیشن نے غیر قانونی حکم جاری کیا۔

مزید خبریں

Back to top button