سعودی عرب کی کمپنی کا ملائیشیا کیساتھ تیل کا معاہدہ ختم کرنے کا اعلان

ریاض (ویب ڈیسک )سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے ملائیشیا کی ریاستی توانائی کمپنی پیٹرو ناس کے ساتھ اپنے مشترکہ ریفائننگ اور پیٹروکیمیکل منصوبوں میں موجود حصص منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد ایک آٹھ سالہ شراکت داری کا خاتمہ ہو جائے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں کمپنیوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ آرامکو اپنے منصوبے میں موجود ایکویٹی حصص پیٹرو ناس کو منتقل کرے گی، جس کے بعد یہ انٹیگریٹڈ ریفائنری اور پیٹروکیمیکل کمپلیکس مکمل طور پر ملائیشیا کی ریاستی کمپنی کی ملکیت میں آ جائے گا۔
اگرچہ اس معاہدے کی مالی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں، تاہم اسے ایشیا کی توانائی مارکیٹ میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
منصوبہ ملائیشیا کے جنوبی علاقے جوہر میں واقع ہے اور اس میں ایک ریفائنری اور پیٹروکیمیکل یونٹس شامل ہیں، اس ریفائنری کی یومیہ صلاحیت تقریباً 3 لاکھ بیرل ہے، جبکہ یہ جیٹ فیول، پیٹرول اور ڈیزل سمیت اہم ایندھن تیار کرتی ہے۔
آرامکو نے 2017 میں اس منصوبے میں 7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے برابر کی شراکت حاصل کی تھی، اور یہ اس کے بیرون ملک بڑے ڈاؤن اسٹریم منصوبوں میں سے ایک تھا۔
کمپنیوں کے مطابق اگرچہ مشترکہ ملکیت ختم ہو رہی ہے، تاہم دونوں فریقین مستقبل میں خام تیل کی سپلائی، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور مصنوعات کی تقسیم کے شعبوں میں تعاون جاری رکھیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جاری جغرافیائی کشیدگی اور توانائی کی عالمی سپلائی چین میں تبدیلیاں آ رہی ہیں، جس کے باعث بڑی آئل کمپنیاں اپنی حکمت عملی ازسرنو ترتیب دے رہی ہیں۔



