کریمیا میں ایندھن کی فروخت محدود، سپلائی بحران کا خدشہ

کریمیا (مانیٹرنگ ڈیسک) روس کے زیرِ قبضہ کریمیا کے اہم شہر سیواستوپول میں ایندھن کی فروخت محدود کر دی گئی ہے، جہاں شہریوں کو فی گاڑی صرف 20 لیٹر پیٹرول فراہم کیا جا رہا ہے۔
مقامی گورنر میخائل رازفوزھائیف کے مطابق یہ اقدام لاجسٹک مسائل کے باعث کیا گیا ہے اور یہ پابندی صورتحال معمول پر آنے تک برقرار رہے گی۔ سیواستوپول کریمیا کا سب سے بڑا شہر اور روس کے بحیرہ اسود کے بحری بیڑے کا مرکزی مرکز بھی ہے، اس لیے ایندھن کی کمی نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد روس کے اندر متعدد آئل ریفائنریز نے پیداوار کم یا مکمل طور پر بند کر دی ہے، جس سے سپلائی چین پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے تاہم دعویٰ کیا ہے کہ روس میں ایندھن کی فراہمی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ روس پہلے ہی اپریل سے جولائی کے دوران پٹرول کی برآمدات پر پابندی لگا چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر حملے جاری رہے تو روس کو مزید علاقوں میں بھی فیول سپلائی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔



