مادر پدر آزادی کا حتمی نتیجہ سامنے آگیا، یورپ میں جنسی امراض میں ریکارڈ توڑ اضافہ

تحریر:نہال معظم
یورپی ہیلتھ ایجنسی کی جانب سے جاری ہونے والی حالیہ رپورٹ نے مغرب کے نام نہاد ترقی یافتہ معاشرے کے چہرے سے چمک دمک کا وہ نقاب نوچ دیا ہے جس کے پیچھے ایک ہولناک اخلاقی اور طبی بحران چھپا ہوا تھا۔ اس سرکاری رپورٹ کے مطابق یورپ میں جنسی طور پر منتقل ہونے والی انتہائی خطرناک امراض، سفیلس (Syphilis) اور گونوریا (Gonorrhoea)یعنی آتشک اور سوزاک، اپنی تاریخ کی بلند ترین اور ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ یہ چونکا دینے والا انکشاف محض ایک طبی الرٹ نہیں ہے، بلکہ اس مادر پدر آزادی کا وہ حتمی اور بھیانک نتیجہ ہے جسے مغربی دنیا طویل عرصے سے انسانی حقوق اور ذاتی خودمختاری کا نام دے کر دنیا بھر میں پروان چڑھا رہی تھی۔ ایک ایسے وقت میں جب مغرب خود کو سائنس اور صحت کے میدان میں دنیا کا پیشوا سمجھتا ہے، ان قدیم اور مہلک ترین امراض کا اس شدت کے ساتھ دوبارہ حملہ آور ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ جب معاشرہ اخلاقی باگ ڈور ہاتھ سے چھوڑ دیتا ہے تو ترقی کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔
اگر اس تشویشناک صورتحال کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ان بیماریوں کے ریکارڈ توڑ پھیلاؤ کے پیچھے کوئی قدرتی آفت نہیں، بلکہ خود انسانوں کا پیدا کردہ سماجی بگاڑ ہے۔ کورونا وبا کی پابندیوں کے خاتمے کے بعد یورپی معاشرے میں آزادی اور بے راہ روی کا ایک ایسا سیلاب آیا جس نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ لاک ڈاؤنز کی تنہائی سے نکلتے ہی نوجوان نسل نے کسی بھی قسم کی اخلاقی یا حفاظتی ذمہ داری کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور عارضی لذت کے حصول کے لیے غیر محفوظ جنسی تعلقات کو اپنا شیوہ بنا لیا۔ ڈیٹنگ ایپس کی کثرت اور انٹرنیٹ کے پھیلاؤ نے اجنبیوں کے ساتھ وقتی اور غیر ذمہ دارانہ تعلقات قائم کرنا اتنا آسان بنا دیا ہے کہ اب خاندانی نظام اور وفاداری جیسے تصورات دم توڑ رہے ہیں، اور اسی بے لگام آزادی کا خمیازہ اب پوری یورپی آبادی بھگت رہی ہے۔
اس پورے بحران کا سب سے زیادہ خوفناک اور بھیانک پہلو یہ ہے کہ سفیلس اور گونوریا جیسے امراض شروع میں اپنی کوئی واضح علامات ظاہر نہیں کرتے۔ یہ خاموش جراثیم انسان کے اندر پلتے رہتے ہیں اور متاثرہ شخص خود کو صحت مند سمجھتے ہوئے نادانستگی میں اسے مزید درجنوں لوگوں میں منتقل کرتا چلا جاتا ہے۔ جب تک اس مہلک انفیکشن کی تشخیص ہوتی ہے، تب تک یہ انسانی جسم کے اعصابی نظام، اندرونی اعضاء اور یہاں تک کہ دماغ کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا چکا ہوتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ لرزہ خیز بات یہ ہے کہ اب ان بیماریوں کے جراثیم روایتی اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف شدید مزاحمت پیدا کر رہے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب یہ امراض لاعلاج ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں اور ان پر قابو پانا میڈیکل سائنس کے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
یورپ سے اٹھنے والا یہ طوفان دراصل اس کھلے پن اور مادر پدر آزادی کا منطقی انجام ہے جس نے خاندانی اقدار کو ملیا میٹ کر دیا۔ یہ صورتحال دنیا بھر کے دیگر معاشروں کے لیے بھی ایک آخری وارننگ ہے کہ اگر آزادی کے نام پر اخلاقی حدود کو پامال کیا جائے، تو قدرت اس کا حساب ہسپتالوں کے بستروں اور لاعلاج وباؤں کی شکل میں لیتی ہے۔ مغربی دنیا آج جس دلدل میں دھنس چکی ہے، اس سے نکلنے کے لیے اب صرف ادویات یا سستے ٹیسٹ کافی نہیں ہوں گے، بلکہ انہیں اپنے پورے سماجی ڈھانچے اور طرزِ زندگی پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی، ورنہ یہ ریکارڈ توڑ اضافہ بہت جلد ایک ایسی انسانی تباہی میں بدل جائے گا جس کا کوئی علاج ممکن نہیں ہوگا۔



