مودی کے دورۂ یورپ میں بھارت کے انسانی حقوق ریکارڈ پر سخت سوالات، عالمی تنقید میں اضافہ

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ یورپ کے دوران بھارت میں انسانی حقوق، آزادیٔ صحافت اور اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق عالمی سطح پر سخت سوالات اٹھائے گئے، جبکہ مختلف یورپی حلقوں نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیدرلینڈ کے وزیراعظم نے بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے حقوق اور آزادیٔ صحافت پر دباؤ کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین اور بھارت کے درمیان ممکنہ آزاد تجارتی معاہدے میں انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کو بھی اہمیت دی جائے گی۔
بھارتی جریدے “دی وائر” کے مطابق مودی کے دورے کے دوران بھارت میں قانون کی حکمرانی، صحافتی آزادی اور اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے متعدد سوالات زیرِ بحث آئے، جبکہ نیدرلینڈ میں ایک بھارتی نژاد خاتون کے اغوا کے کیس کو بھی مقامی میڈیا میں نمایاں کوریج ملی۔
دوسری جانب ناروے میں بھی عالمی میڈیا کی جانب سے بھارتی حکومت سے انسانی حقوق سے متعلق سوالات کیے گئے، تاہم بھارتی حکام ان سوالات کے واضح جواب دینے سے گریزاں دکھائی دیے۔
بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ داخلی چیلنجز اور عالمی تنقید کے باوجود مودی حکومت کو یورپی دورے کے دوران سفارتی دباؤ اور تنقیدی رویے کا سامنا کرنا پڑا، جس سے بھارت کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر عالمی توجہ مزید بڑھ گئی ہے۔



