قومی اسمبلی میں ملک کا پہلا اے آئی پر مبنی پارلیمانی نظام متعارف، افتتاح آج ہوگا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) قومی اسمبلی میں ملک کے پہلے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی پارلیمانی نظام کی افتتاحی تقریب آج منعقد ہوگی، جو پاکستان کی قانون سازی کے جدید ڈیجیٹل دور میں داخلے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
یہ منصوبہ وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔ اس جدید نظام کا افتتاح اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ کریں گی۔
حکام کے مطابق اس اے آئی نظام کا مقصد پارلیمانی امور کو تیز، مؤثر اور جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ اس کے ذریعے بلوں کے خلاصے، پارلیمانی سوالات کی تیاری، سمارٹ ڈاکومنٹ سرچ، سپیچ اسسٹنٹ اور میٹنگ مینجمنٹ جیسی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
مزید یہ کہ نظام میں چیٹ بوٹ کی سہولت بھی شامل ہے جو گفتگو پر مبنی معاونت فراہم کرے گی، جبکہ قانونی دفعات، آرٹیکلز اور حوالہ جات کی خودکار تلاش بھی ممکن ہوگی۔ پارلیمانی افسران اس نظام کی مدد سے بلوں کا تجزیہ منٹوں میں کر سکیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف قانون سازی کے عمل کو تیز کرے گا بلکہ اردو اور انگریزی میں اے آئی لیجسلیٹو سمریز کے ذریعے شفافیت اور کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری لائے گا۔



