پیپلز پارٹی کے بغیر آئینی ترمیم اور بجٹ کی منظوری ممکن نہیں،بلاول بھٹوزرداری نے واضح کردیا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی جس میں پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں خاتون اول اوررکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے بعد چیئرمین بلاول نے قومی اسمبلی میں موجود صحافیوں سے گفتگو کی اور ان کے سوالات کے جوابات دئیے۔

سوالات کے جوابات دیتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے بغیر آئینی ترمیم اور بجٹ کی منظوری ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف سے میری اور صدر مملکت آصف علی زرداری کی بات ہوتی رہتی ہے، لیکن نئی آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت نے آج تک پیپلز پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم میں پیپلز پارٹی کا کردار سب کے سامنے ہے۔ ہم نے صوبوں کے حقوق کم نہیں ہونے دیے، بلکہ مزید حقوق دیے۔ ہماری ترامیم سے بلوچستان کی سینیٹ میں نمائندگی بڑھی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک کی عوام مہنگائی کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ہم نے وفاقی اور صوبائی سطح پر ان مسائل کو مسلسل اٹھایا ہے۔ جب وزیر اعظم نے عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا تو ہم نے اس کا خیرمقدم کیا۔ مہنگائی کے خاتمے کے لیے سب کی مشاورت سے صوبوں کی سپورٹ کا فیصلہ کیا گیا، جس میں موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کو ریلیف دینے پر تمام صوبوں نے حمایت کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے بینظیر مزدور کارڈ کے ذریعے لاکھوں کسانوں کی مدد کی ہے۔ قومی معاملات پر پیپلز پارٹی کا موقف واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر ترمیم اور قومی مسئلے پر ہم حکومت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ بھارت سے جنگ کے دوران ایک محب وطن کے طور پر میں نے بین الاقوامی میڈیا پر ملک کے دفاع کے لیے آواز اٹھائی۔ جنگ کے بعد وزیر اعظم نے مجھ سے امن کمیٹی کی قیادت کی درخواست کی۔ ایران-امریکہ کشیدگی میں بھی ہم نے وفاقی حکومت کا پورا ساتھ دیا۔ ہم سب پاکستانی ایسے معاملات میں متحد ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی مشکلات میں اضافہ نظر آرہا ہے کمی نہیں ۔آنے والے بجٹ میں مشکلات ہوں ہوگی ۔حکومت کو معاشی مشکلات کو دیکھ کر ریلیف کا فیصلہ کرنا ہوگا۔کوئی بھی ترمیم ہو یا قومی معاملات،ہم حکومت کیساتھ ہوتے ہیں۔ ہم سب پاکستانی ایسے معاملات میں ایک ہوجاتے ہیں۔نیب ترامیم کے حوالے سے چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ہم نے حکومت کے سامنے اپنا مو¿قف رکھا ہے کہ تاریخی طور پر ہم چاہتے ہیں نیب ختم ہو جائے۔ حکومت کی مجبوریوں کے پیش نظر ہم نے نئی ترمیم میں ساتھ دیا، لیکن اگر حکومت نے ہمارے ساتھ کی گئی کمٹمنٹ پوری نہ کی تو ہم اپنے فیصلوں پر نظرثانی کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معاشی صورتحال سنگین ہے اور مشکلات میں اضافہ ہی نظر آ رہا ہے۔ ایران-امریکہ معاہدہ ہونے کے باوجود مشکلات رہیں گی۔ حکومت کو معاشی مشکلات کو مدنظر رکھ کر بجٹ بنانا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کی سینئر کمیٹی بجٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز حکومت کے سامنے رکھے گی۔ اس مقصد کے لیے راجہ پرویز اشرف، سلیم مانڈی والا، شیری رحمان اور نوید قمر پر مشتمل چار رکنی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل ایران-امریکہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے امن کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں حالات معمول پر آئیں، اس کے بعد حکومتی کارکردگی اور وعدوں پر بات کریں گے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی درست سمت میں جا رہی ہے اور ملک کے مفاد میں بنائی جا رہی ہے۔ سعودی عرب، دبئی اور ایران کے ساتھ پاکستان اور پیپلز پارٹی کے تعلقات نسلوں پرانے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں، اور دفاعی معاہدے سے یہ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔انہوں نے ایران پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بعد سب سے زیادہ میزائل حملے یو اے ای پر ہوئے۔ ہم ان حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل امن کی کوشوں میں کامیاب ہوں۔

مزید خبریں

Back to top button