اسحاق ڈار اور چینی ہم منصب کی حالیہ گفتگو کو غلط پیش کیاگیا،دفتر خارجہ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان یقین رکھتا ہے کہ پرامن، بامقصد اور تعمیری مذاکرات مسائل کے حل کے لیے ضروری ہیں، کچھ میڈیا رپورٹس میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ حالیہ گفتگو کو "غلط طور پر پیش کیا گیا۔ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کچھ رپورٹس میں تجویز کیا گیا کہ چینی فریق نے ہم پر ثالثی کی کوششوں کو بڑھانے پر زور دیا جس کا مطلب ہے کہ پاکستان کو ‘ڈو مور’ کے پیراڈائم میں ترتیب دینے کے لیے کہا جا رہا ہے جب کہ کچھ مقامی اخبارات کی خبروں کی کوریج سے بھی یہی تاثر گیا۔
انہوں نے کہا کہ میں ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ ایسی رپورٹیں کسی حد تک بات چیت کے سیاق و سباق کو غلط طریقے سے پیش کرتی ہیں، بات چیت کے دوران روایتی گرمجوشی اور ہم آہنگی” تھی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے گزشتہ ہفتے متعدد ہم منصبوں سے رابطے کیے، جبکہ نائب وزیراعظم نے خطے اور خطے سے باہر ایران اور امریکہ تنازع کے حل کے لیے بھی رابطے کیے۔ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے رابطہ کیا اور آسٹریا کے وزیر خارجہ سے علاقائی امن و سلامتی پر بات چیت کی۔ نائب وزیراعظم نے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی سے بھی رابطہ کیا، جس میں دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان تعمیری اور بامقصد گفتگو ہوئی۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان امریکی سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو مسترد کرتا ہے جس میں ایرانی طیاروں کی پاکستان میں موجودگی کا ذکر کیا گیا تھا۔ یہ رپورٹ بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان سی بی ایس نیوز کو مکمل مسترد کرتا ہے، امریکی سینیٹر کا بیان بھی اسی تناظر میں تھا اس کی وضاحت کر چکے ہیں، ایرانی مسافر جہاز ہیِن ان کا ایسی خبروں سے کوئی تعلق نہیں۔



