تھرپارکر،ارباب انور جبار کا تھرکول انتظامیہ کیخلاف سخت ردعمل، متاثرین کی بحالی اور بے بنیاد مقدمات ختم کرنے کا مطالبہ

تھرپارکر (میندھرو کاجھروی)تھرپارکر میں ارباب گروپ کے رہنما ارباب انور جبار نے تعلقہ اسلام کوٹ کے مختلف دیہات میں پولیس کارروائیوں، چادر اور چاردیواری کے تقدس کی مبینہ پامالی اور صحافیوں سمیت دیہاتیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے مختلف دیہات میں چھاپے مارنا، معزز شخصیات کے گھروں میں داخل ہونا اور بے گناہ افراد کو ہراساں کرنا نہایت افسوسناک عمل ہے، جو بنیادی انسانی حقوق اور سماجی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر فقیر قربان وگھیو، بھاووی کے تڑ کے سید گھرانوں، مہاوو بھیل اور دیگر دیہاتیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات اور صحافی فقیر بشیر کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں زبردستی اٹھا لے جانے کی شدید مذمت کی۔

ارباب انور جبار نے کہا کہ سندھ حکومت اور ضلعی انتظامیہ تھرکول بلاک ون سے متاثرہ افراد کو تاحال مناسب طور پر دوبارہ آباد کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت متاثرین کو غیر متنازع زمین فراہم کرنے کے بجائے مختلف برادریوں کے درمیان اختلافات پیدا کرکے "تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جو انتہائی خطرناک رجحان ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ پولیس کے ذریعے مسائل کو دبانے کی کوششوں سے حالات میں افراتفری پیدا ہو رہی ہے، جس سے تھر جیسے پرامن علاقے میں صدیوں سے قائم امن، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ارباب انور جبار نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ افراد کو فوری طور پر غیر متنازع زمین الاٹ کرکے باعزت طریقے سے آباد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف برادریوں کے معززین کو ساتھ بٹھا کر مذاکرات کے ذریعے مسائل کا مستقل حل نکالا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ متاثرین کے نام پر بے گناہ دیہاتیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں فوری بند کی جائیں اور پولیس کی جانب سے درج بے بنیاد مقدمات واپس لیے جائیں۔

آخر میں انہوں نے سندھ حکومت، ڈپٹی کمشنر تھرپارکر اور ایس ایس پی تھرپارکر سے مطالبہ کیا کہ اسلام کوٹ کی صورتحال کا سیاسی اور پرامن حل نکالا جائے اور بے گناہ افراد کے خلاف قائم مقدمات فوری طور پر ختم کیے جائیں۔

مزید خبریں

Back to top button