تھرکول بلاک ون کیخلاف احتجاج، پولیس سے جھڑپ، 38 افراد پر مقدمہ درج،اسلام کوٹ میں شٹر بند ہڑتال اور دھرنا

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی)تھرپارکر میں تھرکول بلاک ون کی انتظامیہ کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف گاؤں مہاوو کا تڑ کے مکین سراپا احتجاج بن گئے، جہاں خواتین اور بچوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کر کے انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ احتجاج کے دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی اور پولیس اور دیہاتیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے باعث چیخ و پکار اور افراتفری پھیل گئی۔
ذرائع کے مطابق پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 38 دیہاتیوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ متعدد گھروں پر چھاپے مار کر 10 افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ پولیس کی اس کارروائی کے خلاف علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
احتجاج کرنے والوں کا الزام ہے کہ تھرکول بلاک ون کی انتظامیہ زبردستی زمینیں خالی کروانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دیہاتی اپنے آبائی گھروں اور زمینوں سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ گاؤں مہاوو تڑ اور شہمیر وکیا کے رہائشیوں نے واضح کیا کہ “ہم گاؤں وروائی کے لوگوں کو اپنے گھر نہیں دے سکتے اور نہ ہی اپنی زمینیں چھوڑنے کو تیار ہیں۔”
دوسری جانب صحافی فقیر بشیر کے خلاف بھی مبینہ طور پر وحشیانہ کارروائی کی گئی، جس کی صحافتی حلقوں نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
واقعے کے خلاف اسلام کوٹ شہر میں مکمل شٹر بند ہڑتال کی گئی، جبکہ پریس کلب کے سامنے دھرنا بھی دیا گیا، جس میں سیاسی و سماجی رہنماؤں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔
مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر پولیس کارروائی کا نوٹس لیا جائے، بے گناہ دیہاتیوں کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں اور تھرکول بلاک ون انتظامیہ کی مبینہ زیادتیوں کا ازالہ کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔علاوہ ازیںچوتھی ایف آئی آر بھی داخل، صحافی فقیر بشیر سمیت 67 دیہاتی لوگ شامل۔



