گرینڈ حیات منصوبہ ہے کیا؟

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)اسلام آباد کا معروف گرینڈ حیات(ون کونسٹیٹیوشن ایونیو)منصوبہ ایک بار پھرخبروں میں ہے،جس کی طویل قانونی تاریخ،معاہداتی خلاف ورزیاں،سی ڈی اےکی کارروائیاں اورعدالتی فیصلوں کے بعد بالآخر معاملہ اپریل 2026 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے ذریعے حتمی طور پر بند ہو گیا ہے۔
سی ڈی اے نے 2005 میں 13.5 ایکڑ زمین ایک فائیو سٹار ہوٹل کے لیے آلاٹ کی،بی این پی کمپنی نے 4.8 ارب روپےمیں لیزجیتی،سی ڈی اے نے 15% پیمنٹ پرجگہ کمپنی کو تعمیر کے لیےدے دی، لیکن اس کے بعد کمپنی نے کوئی رقم نہ دی اور ری شیڈولنگ کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔
کیس عدالت میں گیا اور 2019 میں سپریم کورٹ نے لیزبحالی کے لیے بی این پی کو 17.5 ارب ادا کرنے کا حکم دیا،لیکن کمپنی نےابھی تک صرف 2.9 ارب جمع کروایا اور 14.5 ارب کی نادہندہ ہے۔ اسی لیے 2023 میں ان کی لیز ختم کر دی گئی۔
پیمنٹ تو الگ بی این پی نےمعاہدے کے برعکس یہاں پر 263 فلیٹس کی تعمیر کی،سی ڈی اے نے فلیٹس کے باہر نوٹس بھی آویزاں کیے کہ اس متناضہ بلڈنگ میں فلیٹس خریدنے والے اشخاص انجام کے خود ذمہ دار ہوں گے لیکن پھر بھی فلیٹس کی خرید و فروخت ہوتی رہی۔
اہم بات یہ کہ 263 فلیٹس میں سےصرف 69 فلیٹس میں لوگ رہہ رہےہیں جبکہ باقی 194 فلیٹس پراپرٹی انوسٹرز خرید و فروخت کررہےہیں۔ 69 فلیٹس میں بھی صرف 15% میں اصل رہائشی ہیں جبکہ 85% ائیر بی این پی یعنی ایک دن کرائے کے لیےاستعمال ہو رہے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کےحکم پرسی ڈی اے کا عملا بمع اسلام آباد پولیس ان فلیٹس پرگیا اور تمام متعلقہ بندوں کو عدالتی حکم کے مطابق 7 دن کا نوٹس دیا گیا کہ آپ فلیٹ خالی کریں۔
گوکہ سی ڈی اے نے بہت پہلے انجام کی ذمہ داری کا نوٹس لگایا تھا لیکن پھربھی حکومت نے بڑا دل کرتے ہوئے ان کو اوریجنل قیمت ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔



