آئی ایم ایف کو کھربوں روپے کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی یقین دہانی

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے\ویب ڈیسک) وزارت خزانہ کی جانب سے تقریباً ایک کھرب روپے سرکاری اداروں کے ذریعے کمرشل بینکوں کے کھاتوں میں رکھنے کے اعتراف کے بعد پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ 70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کو ٹریژری سنگل اکاؤنٹ (ٹی ایس اے) کے دائرے میں لے آئے گا۔
قابلِ اعتماد ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے اس بات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ ایک کھرب روپے سے زائد رقم سرکاری اداروں نے سنگل ٹریژری اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کے بجائے اپنے کمرشل بینک اکاؤنٹس میں رکھی ہوئی ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ قرضوں پر انحصار کم کرے اور اس کے بجائے سرکاری شعبے کے فنڈز کو ٹریژری سنگل اکاؤنٹ (TSA) نظام میں یکجا کرے، حکومت نے آئی ایم ایف کو تحریری یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ٹریژری سنگل اکاؤنٹ کے نظام کو مضبوط بنائے گی تاکہ تمام سرکاری فنڈز کو ریاست کے مؤثر کنٹرول میں لایا جا سکے۔
وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق تقریباً ایک کھرب روپے مختلف سرکاری اداروں نے کمرشل بینکوں میں رکھے ہوئے تھے، یہ رقوم حکومت کے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر تھیں اور ادارے ان پر بینکوں سے منافع بھی حاصل کر رہے تھے، جبکہ وزارتِ خزانہ کی مؤثر نگرانی موجود نہیں تھی۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف اس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور پاکستان پر زور دے رہا ہے کہ اس دیرینہ عمل کو ختم کیا جائے۔ اس کا مقصد مالی شفافیت کو یقینی بنانا ہے تاکہ تمام سرکاری فنڈز کو ایک مربوط ٹریژری نظام میں منتقل کیا جا سکے۔
حکومت اب مزید 70 سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس کو TSA نظام میں شامل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 290 ارب روپے موجود ہیں، اس سے پہلے 242 اکاؤنٹس، جن میں قریب 200 ارب روپے تھے، پہلے ہی TSA میں شامل کیے جا چکے ہیں، مجموعی طور پر 200 سے زائد سرکاری ادارے اپنے کمرشل بینک اکاؤنٹس میں بڑی رقوم رکھے ہوئے ہیں۔
آئی ایم ایف کا ماننا ہے کہ ایک ہی نظام کے تحت فنڈز کو یکجا کرنے سے کیش مینجمنٹ بہتر ہوگی اور غیر ضروری قرض لینے کی ضرورت کم ہو جائے گی۔ حکومت نے یہ بھی بتایا ہے کہ پیچیدہ سیکٹرائزیشن اسٹڈی کے بجائے قانونی معیار کو اپنایا جائے گا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ کون سے ادارے TSA کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔
دریں اثنا پارلیمنٹ میں اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، اراکینِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ کی خلاف ورزیاں مالی نظم و ضبط کو نقصان پہنچا رہی ہیں، اس قانون کی دفعہ 40C کے تحت تمام سرکاری آمدن فوری طور پر فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کرانا ضروری ہے، تاہم اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
بڑھتے ہوئے قرضوں اور مالی خطرات سے نمٹنے کے لیے حکومت نے 2026 تا 2028 کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے، اس منصوبے میں قلیل مدتی قرضوں کو بتدریج طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کرنا شامل ہے تاکہ ادائیگی کا دباؤ کم کیا جا سکے، اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود اندرونی قرضوں کو مرحلہ وار کم کرنے اور عوامی قرضہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کا بھی منصوبہ ہے۔
سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں، حکومت موجودہ اور ممکنہ سرمایہ کاروں سے رابطے میں ہے اور انہیں پالیسی اقدامات اور قرضہ حکمت عملی سے آگاہ کر رہی ہے۔ نئی مالیاتی مصنوعات متعارف کرانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ سرمایہ کاری کے مواقع کو بڑھایا جا سکے۔
مزید برآں، حکومت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے سرکاری سیکیورٹیز کی فروخت کو فروغ دینے پر کام کر رہی ہے تاکہ عام سرمایہ کاروں کے لیے بھی اس میں حصہ لینا آسان ہو، حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اس بات پر بھی اتفاق ہوا ہے کہ ستمبر 2026 تک سرکاری سیکیورٹیز مارکیٹ کے ڈھانچے کا ایک جامع جائزہ لیا جائے گا اور موجودہ مسائل کے حل کے لیے عملی منصوبہ تیار کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق TSA نظام کا مکمل نفاذ مالی شفافیت کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا، عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنائے گا اور قرضوں پر انحصار کو کم کرے گا۔



