مصری ممی کے پیٹ سے نکلی یونانی شاعر ہومر کی باقیات، صدیوں قدیم ادب لاشوں میں محفوظ

نہال معظم
بالائی مصر کے تاریخی شہر بہنسا (Oxyrhynchus) میں ہونے والی ایک نئی کھوج نے اس وقت پوری دنیا کو حیران کر دیا جب بارسلونا یونیورسٹی کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے قدیم ممیوں کے اندر سے یونانی ادب کا سب سے بڑا خزانہ دریافت کیا۔ مصری وزارتِ آثارِ قدیمہ کے مطابق، ہسپانوی مشن نے کھدائی کے دوران ایسی ممیز دریافت کی ہیں جن کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کے اندر انتہائی نایاب پاپائرس (قدیم کاغذ) موجود تھا۔ ان ممیوں میں سے ایک کے اندر سے ملنے والا پاپائرس دراصل یونانی شاعر ہومر کی شہرہ آفاق نظم "الیاذہ” (Iliad) کی دوسری کتاب کا حصہ ہے، جسے "فہرستِ جہاز” (Catalogue of Ships) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس تحریر میں ان تمام یونانی دستوں اور بحری جہازوں کی تفصیل درج ہے جنہوں نے ٹرائے کے خلاف مہم میں حصہ لیا تھا۔ یہ ممیز جیومیٹرک نقش و نگار والے کفن میں لپٹی ہوئی تھیں، جبکہ بعض لاشوں کے منہ سے سونے اور تانبے کی زبانیں بھی برآمد ہوئی ہیں، جو اس دور کی مخصوص مذہبی روایات کی عکاسی کرتی ہیں۔ سپریم کونسل آف اینٹیکوئٹیز کے سیکرٹری جنرل ہشام الیتھی کا کہنا ہے کہ یہ دریافت یونانی اور رومی دور کے دوران بہنسا شہر میں تدفین کے طریقوں اور علمی ذوق پر نئی روشنی ڈالتی ہے۔
یہاں یہ دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بہنسا کا شہر، جسے قدیم دور میں پاپائرس کا دارالحکومت کہا جاتا تھا، یہاں ان قدیم لاشوں کے اندر یونانی زبان کی شاعری کیا کر رہی تھی؟ اس کا جواب تاریخ کے اس دور میں چھپا ہے جب 332 قبل مسیح میں سکندرِ اعظم نے مصر فتح کیا اور وہاں یونانی النسل بطلیموسی خاندان کی حکومت قائم ہوئی جو تقریباً تین صدیوں تک جاری رہی۔ اس دور میں بڑی تعداد میں یونانی لوگ مصر میں آ کر آباد ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنی ثقافت، شاعری اور فلسفہ بھی ساتھ لایا۔ وقت گزرنے کے ساتھ مصری اور یونانی تہذیبیں اس حد تک مل گئیں کہ مصریوں نے اپنی قدیم مذہبی روایات (جیسے ممی بنانا) کو برقرار رکھا، لیکن ان کے روزمرہ کے معاملات اور تحریریں یونانی زبان میں منتقل ہو گئیں۔
مصر کے شہروں، بالخصوص اسکندریہ اور بہنسا (Oxyrhynchus) میں بڑے بڑے اسکول اور لائبریریاں قائم کی گئی تھیں۔ یونانی زبان میں مشقیں کرتے تھے۔
اس دور میں مصر کی سرکاری، عدالتی اور تعلیمی زبان یونانی بن چکی تھی اور وہاں کے نصاب میں ہومر کی "الیاذہ” جیسی نظمیں پڑھائی جاتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کے طالب علم پاپائرس (کاغذ) پر مشق کرتے تھے۔۔ اس دور کے مشہور حکمران (بشمول قلوپطرہ) اور تمام سرکاری اہلکار یونانی زبان استعمال کرتے تھے۔
وقت گزرنے کے ساتھ مصری اور یونانی تہذیبیں اس حد تک مل گئیں کہ مصریوں نے اپنی قدیم مذہبی روایات (جیسے ممی بنانا) کو برقرار رکھا، لیکن ان کے روزمرہ کے معاملات اور تحریریں یونانی زبان میں منتقل ہو گئیں۔
جب ممی بنانے والے لاشوں کو محفوظ کرتے تھے، تو وہ اکثر پرانے کاغذات کو ردی کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ کیونکہ اس وقت یونانی زبان کا غلبہ تھا، اس لیے ان کے پاس جو "ردی” دستیاب تھی، وہ وہی پاپائرس تھے جن پر یونانی ادب یا سرکاری دستاویزات لکھی ہوتی تھیں۔یہاں یہ بات بھی پتہ چلتی ہے کہ ممی بنانے میں کپڑا ہی نہیں کاغذ بھی استعمال کیا جاتا تھا۔
یہ ممیز کسی بادشاہ یا فرعون کی نہیں تھیں، بلکہ اس دور کے متوسط اور خوشحال شہری طبقے کی تھیں جنہوں نے اپنی لاشوں کو محفوظ کرنے کے لیے بھاری رقم خرچ کی تھی۔ یہ دریافت اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ ممیاں ایک "دوہری ثقافت” کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہ لوگ مذہبی طور پر تو قدیم مصری روایات پر عمل پیرا تھے، اسی لیے انہوں نے قدیم مصری طریقے سے اپنی ممیز بنوائیں، لیکن علمی اور لسانی طور پر یہ یونانی تہذیب میں رنگے ہوئے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کے پاس سے ہومر کی "الیاذہ” جیسے یونانی شاہکار برآمد ہوئے۔
ہومر، جو آٹھویں صدی قبل مسیح کا ایک نابینا شاعر تھا، یونانیوں کے لیے صرف ایک ادیب نہیں بلکہ ایک قومی ہیرو اور اخلاقیات کا سب سے بڑا استاد تھا۔ اس کی نظم "الیاذہ” یونان کی سب سے اہم داستان ہے جس میں جنگِ ٹرائے کے آخری سال کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ یونانیوں کے لیے ہیلن اور ٹرائے کی کہانی محض ایک افسانہ نہیں بلکہ ان کی غیرت، بہادری اور دیومالائی تاریخ کا حصہ تھی۔ ہیلن، جسے تاریخ کی سب سے خوبصورت عورت مانا جاتا ہے، اس کے اغوا نے یونان اور ٹرائے کے درمیان ایک ایسی دہائی طویل جنگ کو جنم دیا جس نے اکیلز اور ہیکٹر جیسے لافانی جنگجو پیدا کیے۔ اکیلز کی ناقابلِ شکست طاقت اور ہیکٹر کی قربانی کے قصے آج بھی انسانی لہو کو گرما دیتے ہیں۔ جب مصر پر یونانیوں کا غلبہ ہوا تو وہ اپنے ساتھ یہ ورثہ بھی وہاں لے آئے جو آج ممیوں کے بطن سے برآمد ہو رہا ہے۔
اب اصل معمہ یہ ہے کہ یہ اشعار ممیوں کے پیٹ میں کیسے پہنچے؟ ممی سازی کے دوران حنوط کرنے والے ماہرین لاش کو حنوط کرتے وقت جسم کی شکل برقرار رکھنے کے لیے خالی جگہوں میں پرانے اور ناکارہ ہو چکے پاپائرس کے کاغذ بھر دیتے تھے۔ چونکہ اس وقت یونانی زبان کا چرچا تھا، اس لیے ان کے پاس جو "ردی” دستیاب تھی، وہ وہی کاغذات تھے جن پر ہومر کے اشعار درج تھے یا طالب علموں نے ان پر مشق کی تھی۔ یہ ایک عظیم تاریخی اتفاق ہے کہ جن کیمیکلز اور جڑی بوٹیوں نے ان ممیوں کو محفوظ کیا، انہوں نے ہی ان کے اندر چھپے ہومر کے ان ادبی شہ پاروں کو بھی ڈھائی ہزار سال تک زمانے کی دست برد سے بچائے رکھا۔ مصر کا خشک صحرائی ماحول ان تحریروں کے لیے ایک ایسی حفاظتی ڈھال ثابت ہوا جس نے صدیوں قدیم ادب کو لاشوں میں محفوظ کر دیا۔ آج جب ماہرین ان ٹکڑوں کو جوڑ کر ہومر کے گمشدہ الفاظ کو دوبارہ ترتیب دے رہے ہیں، تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسےصدیوں کی داستانیں پھر صدیوں کی تہہ میں لپٹ کر بتا رہی ہوں کہ علم اور کہانی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ بہنسا کے ریگزاروں نے آج انسانیت کو ہومر کا وہ ہدیہ واپس کر دیا ہے جو صدیوں پہلے ممیوں کے سینوں میں خاموشی سے دفن کر دیا گیا تھا۔



