سندھ کے نامور گلوکار استاد بادل راہی شدید علالت، حکومت سے فوری مدد کی اپیل
زندگی کا بڑا حصہ سندھی موسیقی، لوک گیتوں اور پیڑھ کے راگ کو نئی جہت بخش کر اپنی دھرتی کا نام روشن کرنے میں گزارا

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)سندھ کے نامور فنکار، سریلے آواز کے مالک اور بدین شہر کی پہچان سمجھے جانے والے استاد بادل راہی شدید بیماری کے باعث اس وقت بستر مرگ پر ہیں،ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
استاد بادل راہی، جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سندھی موسیقی، لوک گیتوں اور پیڑھ کے راگ کو نئی جان بخش کر اپنی دھرتی کا نام روشن کرنے میں گزارا، آج اپنی زندگی کے نہایت نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں مقامی ذرائع کے مطابق کئی دنوں سے استاد بادل راہی مسلسل بیمار ہیں، جبکہ صحت یابی کے لیے ضروری سہولیات اور بہتر طبی امداد کی شدید کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ اُن کے قریبی ساتھیوں اور شاگردوں نے بتایا ہے کہ استاد کی حالت ایسی ہے کہ وہ خود چل پھر بھی نہیں سکتے، چلنے پھرنے سے مکمل طور پر عاجز ہو چکے ہیں، جبکہ علاج میں ہر گزرتے دن کے ساتھ تاخیر صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے ۔
فن و ثقافت سے محبت رکھنے والے حلقوں، شاگردوں، مداحوں اور بدین کے لوگوں نے بڑے پیمانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے چاہنے والوں کا کہنا ہے کہ بادل راہی جیسے فنکار، جنہوں نے اپنی پوری زندگی سندھی راگ کی خدمت میں گزاری، اس وقت سرکاری سرپرستی کے سب سے زیادہ حق دار ہیں۔ افسوس ہے کہ حکومت اور محکمہ ثقافت ایسے فنکاروں کے دکھ درد میں ساتھ دینے کے بجائے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں سندھ حکومت خصوصاً صوبائی وزیرِ ثقافت سے اپیل کی گئی ہے کہ استاد بادل راہی کا علاج فوری طور پر سرکاری خرچ پر کرایا جائے، انہیں بڑے شہروں کے بہترین اسپتالوں میں منتقل کرکے بغیر تاخیر ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں رعایتی بنیادوں پر طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
مداحوں کا کہنا ہے کہ اگر اب بھی حکومت نے نوٹس نہ لیا تو یہ سندھی فنکار برادری کے لیے بہت بڑا دھچکا ہوگا۔ فنکاروں اور سماجی رہنماؤں نے کہا ہے کہ سندھ کی دھرتی پر راگ، لوک ورثے اور ثقافت کو زندہ رکھنے والے استاد بادل راہی جیسے آوازیں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے قیمتی اثاثوں کی حفاظت کے لیے پیش قدمی کرے تاکہ مستقبل میں سندھ کی موسیقی زیادہ محفوظ اور زندہ رہے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ حکومت کی سستی، لاپرواہی اور بے حسی کی وجہ سے بدین کا یہ قیمتی فنکار بے بسی، لاچاری اور کسمپرسی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو۔ حکومت فوری نوٹس لے اور استاد بادل راہی کی زندگی بچانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے۔



