سندھ کے محمکہ تعلیم کا کمال،ایک سکول میں90طلبہ پر18اساتذہ

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن /جانو ڈاٹ پی کے)90طالبات پرمشتمل سکول پر18اساتذہ کی تعیناتی کا سیکرٹری تعلیم نے نوٹس لے لیا۔ضلعی افسر سے وضاحت طلب کرلی گئی۔سیکریٹری سکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ سندھ کی جانب سے ضلعی تعلیم افسر سیکنڈری بدین احمد خان زنئور کو لیٹر جاری کرکے وضاحت طلب کی ہے کہ گورنمنٹ گرلز لوئر سیکنڈری سکول احمد نوح سومرو بدین میں صرف90طالبات داخل ہیں جبکہ اس سکول میں18اساتذہ تعینات ہیں جو محکمہ تعلیم کی ایس ٹی آر(سٹوڈنٹ-ٹیچر ریشو) پالیسی کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔خط میں مزید کہا گیا ہے پالیسی کے تحت سندھ بھر میں10ہزار سے زائد اساتذہ کو ایک سکول سے دوسرے سکول میں منتقل کیا گیا تاکہ طلباء اور اساتذہ کا تناسب متوازن رکھا جا سکے لیکن ضلعی تعلیم افسر بدین کی جانب سے اضافی اساتذہ کی منتقلی کے لیے کوئی تجویز کمیٹی کو پیش نہیں کی گئی۔ن

نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضلعی سطح پر گریوینس کمیٹی میں بھی اس صورتحال کی درستگی کے لیے موقع دیا گیا لیکن اساتذہ کی منتقلی کے لیے کوئی تجویز نہیں دی گئی جو محکمہ کی پالیسی اور قواعد کی خلاف ورزی اور غفلت کی علامت ہے جو کہ بدانتظامی کے زمرے میں آتی ہے۔

سیکرٹری کی جانب سے جاری کردہ لیٹر میں ضلعی تعلیم افسر کو 3دن کے اندر تحریری وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے بصورت دیگر ان کے خلاف ای اینڈ ڈی رولز کے تحت کارروائی شروع کی جائے گی۔

بوائز ہائی اسکول بدین میں گریڈ 20کے4گریڈ19کے6اور گریڈ 18اور17کے متعدد اساتذہ موجود ہیں لیکن گریڈ16کی ایچ ایس ٹی کو اسکول کا ہیڈ مقرر کیا گیا

یاد رہے کہ ایسی صورتحال بدین کے کئی سکولوں میں پائی جاتی ہے جہاں طلباء کم مگر سفارش یا بھاری رشوت کے عوض اساتذہ زیادہ مقرر کیئے گئے دوسری طرف یہ انکشاف بھی ہوا ہے کے بدین شہر کے گورنمنٹ بوائز لوئر سیکنڈری اسکول بیراج کالونی جہاں ضرورت سے زیادہ اساتذہ تعینات کیے گئے ہیں سوشل میڈیا پر خبریں وائرل ہونے پر محکمہ تعلیم کے سیکریٹری کی جانب سے نوٹس لینے کے بعد محکمہ تعلیم کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کے ڈیوٹیاں پابندی سے کرنے والے اساتذہ کو مختلف بہانوں سے ہراساں بھی کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق شہر کے سب سے بڑے بوائز ہائی اسکول بدین میں گریڈ 20کے4گریڈ19کے6اور گریڈ 18اور17کے متعدد اساتذہ موجود ہیں لیکن گریڈ16کی ایچ ایس ٹی کو اسکول کا ہیڈ مقرر کیا گیا ہے جس پر اساتث میں شدید تشویش پائی جاتی ہے

مزید خبریں

Back to top button