سندھ کی تقسیم،غیرقانونی آباد کاراورعورتوں کے قتل کیخلاف عوامی تحریک اور سندھ یانی تحریک کا16نومبرکواحتجاج کااعلان

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ کام۔پی کے)سندھ کو تقسیم کرنے، کارپوریٹ فارمنگ، ڈیموں، نہروں اور معدنی وسائل پر قبضوں، قبائلی دہشت گردی، کاروکاری اور عورتوں کے قتل کے خلاف عوامی تحریک اور سندھ یانی تحریک کی جانب سے 16 نومبر کو حیدرآباد میں ایک تاریخی احتجاج کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں مارچ کی آگاہی مہم کے طور پر سندھ یانی تحریک کی مرکزی رہنماؤں نے ضلع بدین کے مختلف علاقوں کرڑیو گھنور، منصور نظاماڻي، سهراب نظاماڻي، راھوڪي، جاخرو نوحاڻي، کورواہ، ڳوٺ موسي درس اور دیگر دیہات — کا دورہ کیا اور کارنر میٹنگز منعقد کیں اس موقع پر جمع ہونے والی سندھ یانی عورتوں کے اجتماعات سے تحریک کی رہنماؤں صبحانی داہری، زرقا ہالیپوٽو، پربھات ہالیپوٽو اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کے نام پر سندھ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازش کی جا رہی ہے، لیکن سندھی قوم اپنی سرزمین کی تقسیم کسی صورت برداشت نہیں کرے گی انہو نے کہا کہ 16 نومبر کو سندھ کی ہزاروں عورتیں، مرد، بچے اور بزرگ حیدرآباد میں جمع ہوکر سندھ دشمن منصوبوں کے خلاف پرامن مارچ کریں گے۔صبحانی داہری اور دیگر رہنماؤں نے مزید کہا کہ پورے پاکستان میں افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، مگر سندھ میں پیپلز پارٹی نے رشوت کے عوض لاکھوں غیرقانونی غیرملکیوں کو آباد کردیا ہے۔ سندھ کے ہر کونے میں افغان آباد کیے گئے ہیں جبکہ ضلع بدین کی انتظامیہ افغانوں اور منشیات فروشوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے لیے تیار نہیں اانہو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ کے مزدوروں کو جھونپڑی بنانے کے لیے زمین کا ٹکڑا نہیں دیتی، لیکن افغانوں کے لیے سرکاری سطح پر کالونیاں اور بستیاں آباد کی گئی ہیں انہو نے مزید کہا کہ کراچی بدامنی کیس میں اعلیٰ عدالت نے کہا تھا کہ افغان دہشت گردی، منشیات اور اسلحہ اسمگلنگ میں ملوث ہیں، جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی پریس کانفرنس میں کہا کہ افغان مجرم جرائم میں ملوث اور ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، مگر اس کے باوجود سندھ حکومت ان کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔



