چینی کی قیمت پر حکومت اور شوگر ملز ایسوسی ایشن میں ڈیڈلاک برقرار

مذاکرات کسی حتمی فیصلے کے بغیر ختم ہو گئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک): چینی کی ریٹیل قیمت کے تعین کے لیے وفاقی حکومت اور پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جس کے باعث مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں بدستور 180 سے 200 روپے فی کلو کے درمیان برقرار ہیں۔

منگل کے روز وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین اور پی ایس ایم اے کے نمائندوں کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں چینی کی ایکس مل اور ریٹیل قیمت کے تعین پر غور کیا گیا، تاہم مذاکرات کسی حتمی فیصلے کے بغیر ختم ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے چینی کی قیمت 170 روپے فی کلو تک محدود رکھنے کی تجویز دی گئی، جبکہ شوگر ملز نے ایکس مل قیمت 165 روپے فی کلو پر فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔ تاہم ریٹیل سطح پر فروخت کی قیمت کا تعین تاحال نہیں کیا جا سکا۔

وزارت قومی غذائی تحفظ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اجلاس میں ایکس مل قیمت کے اطلاق، چینی کی بلاتعطل فراہمی اور منافع خوری کی روک تھام پر گفتگو ہوئی۔ بیان کے مطابق نئی قیمتوں کے اثرات آئندہ دو سے تین روز میں مارکیٹ میں ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے شوگر انڈسٹری کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ کرشنگ سیزن میں حکومت نے شوگر ملز کے ساتھ معاہدہ کرتے ہوئے چینی کی ایکس مل قیمت 140 روپے فی کلو مقرر کی تھی، تاہم موجودہ حالات میں تھوک قیمت 159 روپے اور ریٹیل قیمت 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جس سے عوام کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔

پی ایس ایم اے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ قیمتوں میں استحکام کے لیے حکومت سے مکمل تعاون کے لیے تیار ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ معاہدہ مل مالکان کے لیے فائدہ مند ہے، جب کہ مہنگائی کا بوجھ عوام کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button