پنجاب میں سرکاری اسپتالوں میں صحت کارڈ کی سہولت ختم

مقصد نئے طبی منصوبوں پر عملدرآمد کو ممکن بنانا ہے

لاہور (ویب ڈیسک): حکومت پنجاب نے سرکاری اسپتالوں میں صحت کارڈ کی سہولت ختم کرنے کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے، جس کا مقصد نئے طبی منصوبوں پر عملدرآمد کو ممکن بنانا ہے۔

وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ کی سہولت بند کی جا رہی ہے تاہم نجی اسپتالوں میں اس سہولت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

خواجہ سلمان رفیق کے مطابق پنجاب حکومت نے مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے ایسے نئے پروگرام شروع کیے ہیں جو صحت کارڈ کی موجودہ اسکیم میں شامل نہیں تھے، یہی وجہ ہے کہ اب سرکاری اسپتالوں میں براہِ راست سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ وزیر صحت نے بتایا کہ سرکاری اسپتالوں کو نہ صرف ان کا سالانہ بجٹ دیا گیا ہے بلکہ کمپلیمنٹری بجٹ بھی فراہم کیا گیا ہے تاکہ غریب مریضوں کو ادویات، طبی آلات اور لیبارٹری کی سہولیات بلاتعطل مہیا کی جا سکیں۔

وزیر صحت کا کہنا تھا کہ آئندہ دو سے تین ماہ کے دوران تمام سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی فراہمی مکمل طور پر بحال کر دی جائے گی، جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ان منصوبوں کے لیے سپلیمنٹری گرانٹ کا بھی اعلان کریں گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہیلتھ کارڈ کی بندش سے علاج معالجے، ادویات یا دیگر سہولیات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

خواجہ سلمان رفیق نے واضح کیا کہ نجی اسپتالوں میں صحت کارڈ کی سہولت بدستور جاری رہے گی جس کے لیے 25 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ان بیماریوں کو بھی صحت کارڈ میں شامل کرنے پر کام کر رہی ہے جو اس وقت اس اسکیم میں شامل نہیں، جیسے کہ ٹرانسپلانٹ، ڈائیلسز اور مہنگے امراض کا علاج۔

وزیر صحت نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب نے 15 ارب روپے کی لاگت سے ایسے نئے منصوبے بھی شروع کیے ہیں جو پہلے صحت کارڈ کی اسکیم میں شامل نہیں تھے، ان اقدامات کا مقصد سرکاری اسپتالوں پر بوجھ کم کرنا اور صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button