سپریم کورٹ کا مخصوص نشستوں سے متعلق آئینی بینچ ٹوٹ گیا

جسٹس صلاح الدین پنہور نے بینچ سے علیحدگی اختیار کر لی

اسلام آباد (ویب ڈیسک): سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ کا گیارہ رکنی آئینی بینچ ٹوٹ گیا ہے، جسٹس صلاح الدین پنہور نے بینچ سے علیحدگی اختیار کر لی۔

بدھ کے روز جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں گیارہ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کا آغاز کیا، تاہم سماعت کے آغاز پر ہی جسٹس صلاح الدین پنہور نے بینچ کا حصہ بننے سے معذرت کر لی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی شمولیت پر اعتراض کیا گیا ہے، جس پر وہ عدالت کے وقار کے تحفظ کے لیے بینچ سے علیحدہ ہو رہے ہیں۔

جسٹس پنہور نے ریمارکس دیے کہ ان کا 2010 سے ایک وکیل سے تعلق ہے، فیصل صدیقی اور سلمان اکرم راجہ جیسے وکلا نے ججز پر اعتماد کا اظہار کیا، لیکن جس انداز میں اعتراض کیا گیا، اس سے عدالت کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بینچ سے علیحدہ ہونا کسی اعتراض کے اعتراف کے مترادف نہ سمجھا جائے۔

اس موقع پر معروف وکیل حامد خان نے جسٹس پنہور کے اقدام کو قابلِ تحسین قرار دیا، تاہم جسٹس امین الدین خان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ تحسین کا معاملہ نہیں بلکہ آپ کے طرز عمل کا نتیجہ ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے بھی حامد خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا رویہ اس صورتحال کی بنیاد بنا۔

جسٹس مندوخیل نے مزید کہا کہ عدالت نے رعایت برتتے ہوئے انہیں سنا، حالانکہ ایک ہی فریق کے دو وکلا کو الگ الگ دلائل دینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ حامد خان نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ نظرثانی کی بنیاد پر دلائل دینے کے حق دار ہیں، تاہم عدالت نے ان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔

جسٹس پنہور نے کہا کہ ان کے لیے ذاتی رنجش کی بات نہیں، لیکن عدالت پر جانبداری کا الزام افسوسناک ہے اور اس سے عدلیہ کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں یہ تاثر پیدا کرنا کہ کوئی جج جانبدار ہے، کسی طور درست نہیں۔

سماعت کے دوران پیدا ہونے والی صورتحال پر عدالت نے کارروائی 10 منٹ کے لیے ملتوی کر دی۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ بینچ مشاورت کے بعد دوبارہ سماعت کرے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جسٹس پنہور کی علیحدگی کے بعد بینچ کی تشکیل نو کی جاتی ہے یا سماعت میں کوئی اور فیصلہ سامنے آتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button