ایران کیخلاف حالیہ جنگ؛ اسرائیل دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا
خسارے کے تناظر میں امریکا سے مالی امداد یا قرض کی ضمانت حاصل کرنے پر غور شروع

تل ابیب (ویب ڈیسک): ایران کے ساتھ حالیہ 12 روزہ جنگ میں اسرائیل کو بھاری معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے نہ صرف ملکی معیشت پر شدید دباؤ پڑا بلکہ حکومتی سطح پر ہنگامی مالی حکمت عملی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق جنگ کے دوران اسرائیل کو براہ راست 12 ارب ڈالر جبکہ مجموعی طور پر 20 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ یہ نقصان فوجی اخراجات، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، میزائل حملوں، شہری متاثرین کو معاوضے، اور کاروباری سرگرمیوں کے تعطل پر مشتمل ہے۔
اسرائیلی مالیاتی اداروں کے مطابق صرف فوجی اخراجات کی مد میں 5 ارب ڈالر خرچ کیے گئے، جبکہ میزائل حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث کم از کم 15 ہزار شہریوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ متاثرین کو حکومتی اخراجات پر ہوٹلوں میں رہائش فراہم کی گئی اور گھروں کی دوبارہ تعمیر کے لیے فنڈز مختص کیے گئے۔
اسرائیلی وزارت خزانہ نے بڑھتے مالیاتی خسارے کے تناظر میں امریکا سے مالی امداد یا قرض کی ضمانت حاصل کرنے پر غور شروع کر دیا ہے تاکہ دفاعی بجٹ کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق جنگ کے بعد اب تک 41 ہزار سے زائد افراد نے معاوضے کے دعوے سرکاری فنڈ میں جمع کرائے ہیں۔
ایرانی جوابی حملوں میں اسرائیلی حکومت کے مطابق 29 افراد ہلاک جبکہ 3200 سے زائد زخمی ہوئے، تاہم مبصرین اور غیر سرکاری رپورٹس کا دعویٰ ہے کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ بعض رپورٹس میں ان حملوں کو "قیامت خیز تباہی” سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس جنگ نے اسرائیل کی معیشت کو ایسے وقت میں شدید دھچکا پہنچایا ہے جب وہ پہلے ہی سیاسی بے یقینی، مہنگائی اور بجٹ خسارے جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا تھا۔ جنگی اخراجات اور داخلی نقل مکانی کے بحران نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔



