قومی اسمبلی میں بجٹ 26-2025 کی شق وار منظوری کا عمل مکمل

اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد

اسلام آباد (ویب ڈیسک): قومی اسمبلی میں بجٹ برائے مالی سال 2025-26 کی شق وار منظوری کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ کی شق وار منظوری حاصل کی، جب کہ اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کی۔ وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے فنانس بل 2025 کی منظوری کے لیے مختلف شقیں ایوان میں پیش کیں، جن پر رائے شماری کی گئی۔ کاربن لیوی سمیت سیلز ٹیکس فراڈ سے متعلق ترامیم اور کسٹمز ایکٹ 1969 میں تبدیلیاں شامل تھیں۔

اپوزیشن کی ترامیم مسترد، حکومتی ترامیم منظور

قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے فنانس بل پر متعدد ترامیم پیش کی گئیں جنہیں کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا، جبکہ وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم منظور کر لی گئیں۔ وزیر خزانہ نے فنانس بل قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں پیش کیا۔ اپوزیشن اراکین مبین عارف اور عالیہ کامران نے بل کو مؤخر کرنے اور عوامی مشاورت کا مطالبہ کیا، تاہم ان کی تجاویز کو بھی مسترد کر دیا گیا۔

سیلز ٹیکس فراڈ سے متعلق سخت اقدامات منظور

فنانس بل کی شق وار منظوری کے دوران سیلز ٹیکس فراڈ کے خلاف سخت اقدامات کی منظوری دی گئی۔ بل کے مطابق بغیر مال کی ترسیل کے انوائس جاری کرنے، ٹمپرنگ، جعلسازی، شواہد چھپانے یا ضائع کرنے، اور غلط معلومات فراہم کرنے کو ٹیکس فراڈ کے زمرے میں شامل کیا جائے گا۔ ایسے افراد کو گرفتار کیا جا سکے گا بشرطیکہ فراڈ کی مالیت 5 کروڑ روپے یا زائد ہو۔ گرفتاری کے لیے ایف بی آر کی قائم کردہ کمیٹی کی منظوری لازم ہوگی، جب کہ گرفتار افراد کو 24 گھنٹوں میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ضروری ہوگا۔

کسٹمز ایکٹ 1969 میں ترامیم منظور

فنانس بل کی شق 4 پر بحث کے دوران کسٹمز ایکٹ 1969 میں ترامیم بھی کثرت رائے سے منظور کر لی گئیں۔ ووٹنگ میں حکومت کے حق میں 201 جب کہ اپوزیشن کی جانب سے 57 ووٹ دیے گئے۔ ترامیم کے مطابق پاکستان میں اور بیرون ملک اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کارگو ٹریکنگ سسٹم نصب کیا جائے گا، جب کہ ای بلٹی سسٹم کے ذریعے درآمد، برآمد اور ترسیل کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ رکھا جائے گا۔

ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں و مراعات میں ترامیم منظور

فنانس بل 2025 میں ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق بھی شقیں شامل کی گئیں۔ شق 4اے اور 4بی کے تحت وفاقی وزرا اور وزرائے مملکت کو ارکان پارلیمنٹ کے برابر تنخواہ دی جائے گی۔ تنخواہوں و مراعات ایکٹ 1975 میں اس سلسلے میں ترمیم بھی منظور کی گئی۔

یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ نے بجٹ کی منظوری دی تھی، جس کے بعد اسے ایوان میں پیش کیا گیا۔

مزید خبریں

Back to top button