سید سمن سرکار کے عرس میں عقیدت مندوں کی بڑی تعداد، درگاہ پر حاضری اور دعاؤں کا سلسلہ جاری

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/ جانو ڈاٹ/ پی کے)سید سمن سرکار کے 95 ویں عرس و میلے کی تقریبات تیسرے روز بھی جاری، ملک بھر سے زائرین کی آمد کا سلسلہ برقرار۔ پنگریو کے قریب واقع سندھ کے معروف صوفی بزرگ سید سمن سرکار کے 95 ویں سالانہ عرس اور میلے کی تقریبات تیسرے روز بھی پورے جوش و خروش کے ساتھ جاری رہیں۔ ملک بھر سے زائرین اور عقیدت مندوں کی آمد کا سلسلہ برقرار ہے، درگاہ پر حاضری دینے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے جبکہ میلہ گاہ میں بھی رونقیں عروج پر ہیں۔ تفصیلات کے مطابق تیسرے روز بھی عقیدت مند بڑی تعداد میں درگاہ پہنچے، حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور ملک و قوم کی سلامتی، امن اور خوشحالی کے لیے دعائیں مانگیں۔ سجادہ نشین خاندان اور میلہ کمیٹی کے عہدیداروں کی جانب سے زائرین کی رہنمائی اور سہولت کے انتظامات جاری ہیں۔ عقیدت مند روایت کے مطابق اپنے ہمراہ دیسی مرغے بھی بطور نذرانہ لاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سید سمن سرکار کو "مرغوں والی سرکار” کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے، جبکہ زائرین کے لیے لنگر کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ عرس و میلے کے موقع پر ثقافتی اور تفریحی سرگرمیاں بھی شائقین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ فنکاروں کے شوز میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہو رہی ہے، سندھ کے روایتی کھیل ملھ ملاکھڑے کے مقابلے دیکھنے کے لیے شائقین کا رش رہا، جبکہ گھوڑ دوڑ میں بھی شائقین نے گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور شرکاء کو بھرپور داد دی۔ میلہ گاہ میں قائم مٹھائی کی دکانوں پر خریداروں کا رش دیکھنے میں آیا، کھانے پینے اور خریداری کے اسٹالوں پر بھی گہما گہمی رہی، جبکہ بچوں اور بڑوں نے جھولوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ میلے کی رونقوں کو دوبالا کر دیا۔ تفریحی آئٹمز پر بھی شائقین کا غیر معمولی رش دیکھا گیا۔ میجک شو، تھیٹر، موت کا کنواں، سرکس، ٹرین اور چڑیا گھر سمیت شو لائن کے دیگر آئٹمز پر بچوں اور بڑوں کی بڑی تعداد موجود رہی اور ہر آئٹم پر رش کا سماں رہا۔ انتظامات کے حوالے سے محکمہ اوقاف، میلہ کمیٹی اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے زائرین کی سہولت کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ سیکیورٹی کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹ بھی نصب کیے گئے ہیں۔ رات کے وقت روشنیوں سے جگمگاتی درگاہ اور میلہ گاہ کا منظر دیدنی ہوتا ہے اور دیر رات تک رونقیں برقرار رہتی ہیں، جبکہ عرس و میلے کی تقریبات میں شرکت کے لیے زائرین کی آمد کا سلسلہ بدستور جاری ہے

مزید خبریں

Back to top button