پاکستان میں مہنگی ہیوی بائیکس سستی ہونے کا امکان، براق آٹو موبائلز کا مقامی اسمبلنگ پلانٹ جنوری 2027 سے فعال ہوگا

کراچی (جانوڈاٹ پی کے\ویب ڈیسک) پاکستان میں ہیوی بائیکس کے شوقین افراد کے لیے اہم خبر سامنے آئی ہے، جہاں براق آٹو موبائلز نے اٹلی اور چین کے معروف موٹر سائیکل برانڈز کی مقامی سطح پر اسمبلنگ کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس پیش رفت سے درآمدی ہیوی بائیکس کی قیمتوں میں لاکھوں روپے تک کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مبین احمد کے مطابق اسمبلنگ پلانٹ رواں سال دسمبر تک مکمل طور پر تیار ہو جائے گا، جبکہ باقاعدہ پیداوار کا آغاز جنوری 2027 سے متوقع ہے۔

کمپنی کی جانب سے الیکٹرانک فیول انجیکشن (EFI) ٹیکنالوجی سے لیس موٹر سائیکلیں بھی متعارف کرانے کا ارادہ ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے ایندھن کے بہتر استعمال اور انجن کی کارکردگی میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ براق آٹو موبائلز اس وقت بینلی (Benelli)، موٹو مورینی (Moto Morini) اور کیو جے موٹر (QJMOTOR) جیسے بین الاقوامی موٹر سائیکل برانڈز کی پاکستان میں درآمد اور تقسیم کاری کرتی ہے۔

منصوبے کے پہلے مرحلے میں موٹو مورینی کی ایڈونچر بائیک آل ٹریک 450 (Alltrhike 450) کو مقامی سطح پر اسمبل کیا جائے گا، جس کے بعد 300 سی سی ماڈل بھی متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔ کمپنی ایک اور بین الاقوامی برانڈ کی موٹر سائیکلوں کی اسمبلنگ پر بھی غور کر رہی ہے، تاہم اس برانڈ کا نام فی الحال ظاہر نہیں کیا گیا۔

آل ٹریک 450 کی قیمت میں تقریباً 6 لاکھ روپے کمی متوقع

مبین احمد کے مطابق آل ٹریک 450 کی موجودہ درآمدی قیمت تقریباً 26 لاکھ روپے ہے، جبکہ مقامی اسمبلنگ کے بعد اس کی ممکنہ قیمت 19 لاکھ 95 ہزار روپے ہو سکتی ہے۔ اس طرح قیمت میں تقریباً 23 فیصد کمی متوقع ہے۔

کمپنی کے مطابق مقامی اسمبلنگ سے درآمدی ڈیوٹی کے اخراجات میں بچت ہوگی۔ اگر حکومت کی مجوزہ آٹو پالیسی کے تحت مکمل طور پر تیار موٹر سائیکلوں کے بجائے پرزہ جات کی صورت میں درآمد ہونے والی سی کے ڈی (CKD) کٹس پر ڈیوٹی مزید کم کی گئی تو قیمتوں میں مزید کمی کا امکان بھی موجود ہے۔

تاہم مقامی اسمبلنگ کے بعد موٹر سائیکلوں کی حتمی قیمتوں کا انحصار پیداواری لاگت، درآمدی ڈیوٹی اور دیگر حکومتی پالیسیوں پر ہوگا۔

مزید خبریں

Back to top button