ناسا نے شدید سردی میں بھی کام کرنے والی جدید بیٹری تیار کرلی

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک انقلابی نئی بیٹری تیار کی ہے جو امریکا کے چاند پر دوبارہ انسان بھیجنے کے منصوبے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے زمین پر برقی گاڑیوں (الیکٹرک وہیکلز) میں استعمال ہونے والی بیٹریوں کو بھی محفوظ، مؤثر اور زیادہ کارآمد بنانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ٹیکنالوجی سے متعلق ویب سائٹ انٹرسٹنگ انجینئرنگ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق یہ بیٹری انتہائی کم درجہ حرارت میں بھی کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس سے چاند پر چلنے والی گاڑیوں، سائنسی آلات اور خلانوردوں کے ہنگامی سامان کو بجلی فراہم کرنے کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے تحت چاند پر استعمال ہونے والی گاڑیوں، تحقیقی آلات اور ہنگامی سامان کو توانائی فراہم کر سکتی ہے۔ فی الحال یہ بیٹریاں تجربہ گاہ میں تیار کیے گئے چھوٹے نمونے ہیں اور انہیں ابھی خلا میں آزمایا نہیں گیا۔

ناسا کے اسپیئرز منصوبے کے تحت کیے گئے تھرمل ویکیوم ٹیسٹ کے دوران اس نئی ٹھوس حالت والی بیٹری (سالِڈ اسٹیٹ بیٹری) نے منفی 170 ڈگری سینٹی گریڈ تک کے انتہائی سرد درجہ حرارت کو کامیابی سے برداشت کیا اور اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

مزید برآں یہ بیٹری منفی 80 ڈگری سینٹی گریڈ تک کے درجہ حرارت میں بھی کام کرتی رہی، اگرچہ اس کی کارکردگی میں کمی دیکھی گئی۔ اس کی نسبتاً بہتر کارکردگی منفی 60 سے مثبت 80 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان سامنے آئی۔

ماہرین کے مطابق اگر اس ٹیکنالوجی کو مزید کامیابی سے تیار کرکے عملی استعمال کے قابل بنا لیا گیا تو یہ مستقبل میں خلائی مشنز کے ساتھ ساتھ زمین پر برقی گاڑیوں اور دیگر آلات کے لیے بھی زیادہ محفوظ اور مؤثر بیٹریاں بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button