وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مذاکراتی مسودے کی منظوری کیلئے افغانستان سے ہدایات لے رہے تھے، طارق فضل چوہدری

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ مذاکراتی مسودے کی منظوری کے لیے افغانستان میں رابطے کر رہے تھے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات مثبت نتائج کی جانب بڑھ رہے تھے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر شروع کیے گئے مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی تھی اور حکومت کو کامیابی کی قوی امید تھی۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران چوتھا مسودہ تیار کیا گیا تھا، جس کی حتمی منظوری وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے دینی تھی۔ تاہم، ان کے بقول اطلاعات تھیں کہ وزیراعلیٰ اس اہم دستاویز کی منظوری کے لیے افغانستان سے ہدایات لے رہے تھے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ محمود اچکزئی کا مؤقف تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات میں کسی قسم کی پیش رفت ممکن نہیں۔ طارق فضل چوہدری کے مطابق اگر اس وقت ملاقات کے لیے کوئی ٹائم فریم طے ہوجاتا اور فریقین کسی متفقہ حل پر پہنچ جاتے تو ملک کی سیاسی صورتحال آج مختلف ہوسکتی تھی۔
مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف نے اسمبلیوں سے استعفے دینے کا فیصلہ کیا تو ان کی جماعت کے 40 ارکان اس فیصلے کا حصہ نہیں بنیں گے اور اپنی نشستوں پر برقرار رہیں گے۔



