جامشورو میں ٹک ٹاکر مہک ملاح کی ہلاکت کا معمہ حل نہ ہو سکا، واقعے میں مزید پیچیدگیاں سامنے آگئیں

حیدراباد ( رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/ پی کے)سندھ یونیورسٹی جام شورو سندھیالوجی کے قریب ٹکر سے رکشا میں سوار ایک ٹک ٹاکر لڑکی مہک ملاح کے جانبحق ہونے کی گتھی جام شورو دو روز میں نہیں سلجھانے میں ناکام مزید پیچیدگیاں سامنے ا گئیں سول ہسپتال مردہ خانے سے لاش وصول کرنے کے لئے انے والے ورثاء نے اعضا لاش کے اعضا نکالنے کا الزام لگا کر ڈاکٹروں اور عملے پر حملہ کیا جس پر پولیس طلب کرنا پڑی تھی جب کہ رکشا ڈرائیور کے والد نے کہا ہے اس کا زخمی بیٹا لا پتہ ہے، ائی جی سندھ نے بھی پولیس سے حادثے کے بارے میں رپورٹ طلب کر لی ہے اتوار کی شب دیر سے سندھ یونیورسٹی جامشورو سندھیالوجی کے قریب ایک رکشے کر کسی گاڑی نے ٹکر ماردی تھی جس سے مہک ملاح بنت امیر علی ملاح نامی 22 سالہ لڑکی مہل ملاح موقع پر ہی دم توڑ گئی تھی جو سید آباد کالونی جام شورو کی رہنے والی تھی جام شورو پولیس رات کو مہک کی لاش پہلے پوسٹ مارٹم کے لئے جام شورو ہسپتال لے گئی تھی اور بعد مہں حیدرآباد سول ہسپتال منتقل کی گئی تھی تھی لڑکی کے عزیز و اقارب لاش وصول کرنے کے لئے لیاقت یونیورسٹی ہسپتال پر احتجاج کیا اور پھر سول ہسپتال حیدراباد مردہ خانے سے لاش لینے انہوں نے الزام لگایا کہ لڑکی جسم کے اندرونی اعضا نکالے گئے ہیں اور میڈیکولیگل کے ڈاکٹروں اور عملے پر حملہ کر دیا اور شدید نعرے بازی کی ایک خاتون اور ایک مرد ڈاکٹر نے اپنے اپ کو کمرے میں بند کر کے جان بچائی جب کہ مشتعل افراد نے عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا جس پر میڈیکو لیگل افسران نے پولیس طلب کر لی تھی پولیس سرجن حیدراباد ڈاکٹر وسیم خان نے بتایا کہ مہک کے اعضا نکالنے کے الزام میں ہرگز کوئی صداقت نہیں ، لاش کی شناخت ہونے کے بعد مہک کے والدین موجود تھے ڈیوٹی ڈاکٹر پونم نے قانون کے مطابق اپنا فرض ادا کیا اور پوسٹ مارٹم کیا کس نے اس کے عزیز و قارب کو گمراہ کیا جس پر لا علمی میں انہوں نے الزامات لگائے مہک کی لاش شام کو اس کے خاندان کے حوالے کر دی گئی تھی لیکن اس حادثے میں مہک کی ہلاکت کیسے ہوئی کیونکہ رکشا کا اگے کا حصہ تباہ ہو گیا پولیس کے مطابق رکشا ڈرائیور رضا حسین چانڈیو معمولی زخمی ہوا اور اگر بیٹھا دوسر لڑکا رضا چانڈیو بلکل محفوظ رہا ،مہک ملک کے مبینہ طور پر پولیس سے نکالے گئے والد امیر علی کے مطابق مہک سندھ یونیورسٹی ہاوسنگ سوسائٹی فیز ون میں کسی تقریب میں پڑوسی لڑکے رضا چانڈیو کے ساتھ رضا چانڈیو کے رکشے میں گئی تھی رات ڈیڑھ دو بجے کے قریب واپس لوٹتے ہوئے رکشا کو سندھیالوجی کے قریب کسی ٹرک نے ٹکر ماری جس سے وہ انتقال کر گئی جامشورو پولیس لاش کو لاوارث سمجھ کر لیاقت یونیورسٹی ہسپتال لے گئے ہم صبح پانچ بجے تک لاش لینے کے لئے احتجاج لیا ،جام شورو پولیس کا دعوی ہے رکشا کو کسی ٹرک نے ٹکر نہیں ماری غالبا تیز رفتار رکشے کاپچھلاحصہ کسی گاڑی سے ٹکرا گیا جس سے مہک دم توڑ گئی ادھر رکشا ڈرائیور رضا حسین چانڈیو نے والد علی رضا چانڈیو نے دیگر اہل خانہ کے ساتھ مل کر احتجاج کیا اور کہا کہ اس کا بیٹا حادثے میں زخمی ہوا تھا اس لئے ہسپتال سے مرہم پٹی کرانے کے بعد وہ گھر ا گیا تھا لیکن پھر کچھ نوجوان گھر ا کر ساتھ لے گئے اور پھر وہ گھر نےلوٹا جب کہ جامشورو پولیس نے رضا حسین کی تلاش کے لئے جبری گھر میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی پولیس ہمارا بیٹا دلائے بتائے کہ کس حالت میں ہے ادھے مہک کے ساتھ رکشا میں موجود اس کے پڑوسی نوجوان احمد جمالی کی بھی گرفتاری کی پولیس نے تصدیق نہیں کی ادا ھرانسپکٹر جنرل آف پولیس جاوید عالم اوڈھو نے جامشورو میں ٹریفک حادثے کے نتیجے میں 21 سالہ لڑکی مہک ملک کے جاں بحق ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے



