صوبے پر حملہ کرکے لوگوں کو بلوں سے نکلنے کا کہا جا رہا ہے،عوام نکل آئے تو کیا ہوگا؟،ناصرعباس

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے)سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں منتخب وزیراعلیٰ اور وزرا کی گرفتاریوں، منتخب نمائندوں کو ہٹانے اور عوامی مینڈیٹ نظرانداز کرنے سے سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب لوگ خاموش ہوجاتے ہیں تو صورت حال خطرناک رخ اختیار کرسکتی ہے۔

سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے راجہ ناصر عباس نے الزام عائد کیا کہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا اور خیبر پختونخوا میں منتخب نمائندوں کی جگہ ایسے لوگوں کو حکومت دی گئی جو حکمرانوں کے حامی ہیں۔ ان کے بقول، صوبے میں ایک رکن قومی اسمبلی کو بھی اٹھایا گیا ہے جبکہ ملک بھر میں احتجاجی کیفیت پائی جاتی ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پاکستان کو تباہی اور بربادی کی طرف لے جایا جا رہا ہے اور عدلیہ کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے سیاست دانوں کے فیصلے کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقے سے نکالا جانا چاہیے۔

راجہ ناصر عباس نے ملک کی معاشی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے تجارتی راستوں کو مختلف سمتوں سے مشکلات کا سامنا ہے اور موسمی حالات کے باعث چین کی جانب سے رابطے بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق، اگر کوئی ملک چاروں طرف سے بندشوں کا شکار ہوجائے تو اس کے لیے معاشی ترقی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے سیاست دانوں کے اہلِ خانہ، خصوصاً خواتین کو اٹھائے جانے کے مبینہ واقعات پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ ایک پورے صوبے کو دیوار سے لگانے کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خیبر پختونخوا میں مستقبل میں بدامنی پیدا ہوئی تو اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے موجودہ اقدامات کی حمایت کی۔

راجہ ناصر عباس نے 1971 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت عوامی مینڈیٹ تسلیم نہ کرنے کے نتائج سامنے آئے تھے، لیکن ملک نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے اختیارات چھین کر عمران خان کو غیر اہم نہیں بنایا جا سکتا۔

انہوں نے 11 اکتوبر کو پیش آنے والے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو گھروں سے نکلنے کا کہا جا رہا ہے، لیکن اگر لوگ واقعی باہر آگئے تو صورت حال کیا ہوگی؟ انہوں نے بلوچستان کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے سیاسی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

خطے کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ یمن اور سعودی عرب کے درمیان تنازع میں پاکستان کو کسی فریق کا ساتھ دینے کے بجائے ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

مزید خبریں

Back to top button