عرب ممالک پر پلاسٹک حملہ:پاکستان کے لیے ریڈ الرٹ!

نہال معظم
ہمارے ہاتھ میں موجود پانی کی پلاسٹک بوتل، چائے کا یک بار استعمال ہونے والا کپ یا بازار سے خریداری کے لیے لایا گیا شاپر بظاہر معمولی اشیا ہیں، لیکن استعمال کے بعد یہی سہولت کا سامان ایک سنگین ماحولیاتی بحران کا حصہ بن جاتا ہے۔ پلاسٹک کی اصل قیمت صرف وہ چند روپے نہیں جو ہم دکان پر ادا کرتے ہیں، بلکہ اس آلودگی کا بوجھ ہمارے سمندروں، سمندری حیات، ساحلی معیشت اور قدرتی وسائل کو اٹھانا پڑتا ہے۔
اس بحران کی تازہ مثال ستمبر 2026 میں گرین پیس مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ کی جاری کردہ رپورٹ ہے، جس میں مصر، مراکش اور تیونس میں پلاسٹک کی آلودگی کی معاشی اور ماحولیاتی لاگت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان تین ممالک میں پلاسٹک کی آلودگی کی موجودہ سالانہ لاگت کا بالائی تخمینہ 5.5 ارب امریکی ڈالر تک پہنچتا ہے، جبکہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو 2040 تک عدم کارروائی کی مجموعی لاگت کا بالائی تخمینہ 98 ارب ڈالر تک ہو سکتا ہے۔ یہ تخمینے ہیں، قطعی طور پر شمار شدہ نقصانات نہیں، تاہم ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ پلاسٹک کی آلودگی محض صفائی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا معاشی چیلنج بھی ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف مصر، مراکش اور تیونس سے متعلق ہیں، پورے عرب خطے سے نہیں۔
اسی خطرے کی ایک سائنسی تصویر جنوری 2025 میں شائع ہونے والی تحقیق میں سامنے آئی، جس میں مصر، مراکش اور تیونس کے بحیرۂ روم کے ساحلوں پر کچرے کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے دوران ریت سے جمع کیے گئے 12,877 چھوٹے کچرے کے ٹکڑوں میں سے 87.2 فیصد مصنوعی پولیمر کے زمرے میں شامل تھے، جن میں پلاسٹک نمایاں تھا۔ بڑے کچرے کے الگ سروے میں بھی مصنوعی پولیمر سب سے نمایاں قسم تھے۔ محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ساحلوں کی صفائی اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن کچرے کے ناقص انتظام، انسانی سرگرمیوں اور پلاسٹک کے مسلسل اخراج کو روکے بغیر اس مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں۔ واضح رہے کہ یہ تناسب تحقیق میں جانچے گئے نمونوں کا ہے، پورے بحیرۂ روم میں موجود پلاسٹک کا نہیں۔
مصر، مراکش اور تیونس کے علاوہ الجزائر، لیبیا، لبنان اور شام جیسے ممالک کے ساحلی علاقے بھی بحیرۂ روم سے وابستہ ہیں۔ دوسری جانب مصر، سعودی عرب، اردن اور یمن کے ساحلی علاقے بحیرۂ احمر سے جڑے ہوئے ہیں، جبکہ خلیج عرب کے ساحلی ممالک کے لیے بھی سمندری ماحول کا تحفظ اہم ہے۔ ان تمام ممالک میں آلودگی کی مقدار اور اس کے ذرائع یکساں نہیں، تاہم پلاسٹک کے استعمال میں کمی، کچرے کے بہتر انتظام اور سمندری ماحول کے تحفظ کی ضرورت مشترکہ ہے۔
لیکن یہ خطرہ صرف عرب دنیا تک محدود نہیں۔ پاکستان کا بحیرۂ عرب، خصوصاً کراچی اور گوادر کے ساحلی علاقے، بھی پلاسٹک کے کچرے کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ شہروں کی نالیوں، دریاؤں اور نکاسیٔ آب کے نظام سے بہنے والا پلاسٹک بالآخر سمندر تک پہنچ سکتا ہے۔ ساحلی علاقوں میں کچرا جمع کرنے اور محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے ناقص انتظامات اس مسئلے کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ساحلوں کی خوب صورتی متاثر ہوتی ہے، سمندری جاندار پلاسٹک میں پھنس سکتے ہیں یا اسے خوراک سمجھ کر نگل سکتے ہیں، جبکہ ماہی گیری اور سیاحت کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔ پاکستان میں اس نقصان کی درست مالی مقدار متعین کرنے کے لیے تازہ اور جامع مقامی مطالعات درکار ہیں۔
پلاسٹک کی آلودگی کا ایک اور تشویش ناک پہلو مائیکرو پلاسٹک ہے۔ سورج کی روشنی، لہروں اور دیگر ماحولیاتی عوامل کے زیرِ اثر پلاسٹک چھوٹے ذرات میں ٹوٹ سکتا ہے۔ یہ ذرات پانی، ساحلی ریت، سمندری تلچھٹ اور جانداروں میں پائے جا سکتے ہیں۔ بعض سائنسی تحقیقات میں انسانی خون کے نمونوں میں بھی مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی رپورٹ ہوئی ہے۔ تاہم انسانی صحت پر ان ذرات کے طویل مدتی اثرات اور مختلف بیماریوں سے ان کے تعلق کے بارے میں ابھی مزید تحقیق درکار ہے۔ اس لیے اس خطرے کو نظرانداز کرنا درست نہیں، لیکن ممکنہ نقصانات کو ثابت شدہ حقیقت بنا کر پیش کرنا بھی سائنسی احتیاط کے خلاف ہے۔
پلاسٹک کی یہ آلودگی ایک دن میں پیدا نہیں ہوئی اور نہ ہی اسے محض چند صفائی مہمات کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔ حکومتوں کو غیر ضروری یک بار استعمال ہونے والی پلاسٹک اشیا میں کمی، کچرے کی مؤثر جمع آوری، ری سائیکلنگ اور محفوظ تلفی کے نظام بہتر بنانا ہوں گے۔ صنعتی اداروں کی ذمہ داری طے کرنا اور قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ عوام کپڑے کے تھیلے، بار بار استعمال ہونے والی بوتلیں اور برتن اپنا کر اور کچرا نالیوں یا کھلے مقامات پر پھینکنے سے گریز کرکے اس کوشش میں حصہ لے سکتے ہیں۔
پاکستان اور عرب ممالک کے لیے یہ مسئلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ساحلی وسائل خوراک، روزگار، سیاحت اور معاشی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔ مصر، مراکش اور تیونس کی تازہ رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ ماحولیاتی غفلت کی قیمت محض گندگی کی صورت میں نہیں بلکہ بھاری معاشی بوجھ کی شکل میں بھی سامنے آ سکتی ہے۔ پاکستان کو بھی اپنے ساحلی علاقوں میں پلاسٹک کی آلودگی کے حجم، اس کے ذرائع اور معاشی اثرات پر تازہ تحقیق اور مؤثر پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے۔
پلاسٹک کی یہ یلغار کسی بیرونی لشکر کا حملہ نہیں، بلکہ انسانی غفلت، بے تحاشا استعمال اور ناقص کچرا انتظام سے پیدا ہونے والا بحران ہے۔ اگر ہم نے آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو اس کی قیمت ہمارے ساحلوں، سمندری حیات، معیشت اور آنے والی نسلوں کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ سمندر کو پلاسٹک کے کچرے سے بچانا محض ماحول دوستی کا نعرہ نہیں، بلکہ زندگی کے بنیادی وسائل کے تحفظ کی ضرورت ہے۔



