بچوں میں کینسر: ابتدائی علامات پر نظر رکھیں!

راجہ نوید

​بچوں میں کینسر اگرچہ دیگر بیماریوں کے مقابلے میں کم پھیلاؤ رکھتا ہے، تاہم اس کی وقت پر تشخیص ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ اس کی ابتدائی علامات عام روزمرہ کی بیماریوں سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔

​ماہرینِ امراضِ کینسر کے مطابق والدین کو کچھ مخصوص علامات پر خاص توجہ دینی چاہیے، بالخصوص جب وہ مسلسل برقرار رہیں یا ان میں شدت آتی جائے:

​شدید اور مسلسل تھکاوٹ۔

​چہرے پر واضح پیلاہٹ۔

​بلاوجہ جسم پر نیل پڑنا۔

​جسم پر گلٹیاں یا سوجن جو وقت کے ساتھ بڑھتی جائیں۔

​مسلسل ناک بند رہنا یا آنکھوں سے پانی بہنا۔

​بچوں میں کینسر بالغوں کی بنسبت زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے، اسی لیے بروقت تشخیص نہایت اہم ہے۔ تھکاوٹ اور سانس پھولنے کو محض جسمانی کمزوری یا اسکول کی تھکن سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ یہ ایکیوٹ مائیلوئڈ لیوکیمیا” (خون کا کینسر) کی علامت ہو سکتی ہے۔

اسی طرح ناک کی بندش اور آنکھوں کے پانی کو صرف موسمی الرجی نہ سمجھا جائے یہ نرم خلیات کے ایک نایاب اور شدید کینسر (Rhabdomyosarcoma) کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔

​تشخیص میں تعطل کو ختم کرنے کے لیے طبی ماہرین "تین کا اصول” (Rule of Three) اپنا نے کی ہدایت کرتے ہیں۔ اس اصول کے تحت اگر بچے میں تین مسلسل علامات ظاہر ہوں، وہ تین بار ڈاکٹر کے پاس جائے، یا غیر واضح علامات تین ہفتوں تک برقرار رہیں، تو فوری طور پر کینسر کے تفصیلی ٹیسٹ کروائے جانے چاہئیں۔

​ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں کینسر کی تشخیص سے نہ صرف سخت اور تکلیف دہ علاج کی ضرورت کم ہو جاتی ہے بلکہ علاج کی کامیابی کے امکانات بھی کافی بڑھ جاتے ہیں۔ ۱۹۷۰ء کی دہائی کے مقابلے میں اب طب کی پیشرفت کے باعث کینسر میں مبتلا 80 فیصد بچے تشخیص کے بعد 5سے 10 سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک حیات رہتے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button