رکن ملک پر حملہ کیا تو پورا جنگی نظام نشانہ بنائیں گے، نیٹو کمانڈر کی روس کو سخت وارننگ

وارسا(مانیٹرنگ ڈیسک) نیٹو کے اعلیٰ فوجی کمانڈر نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اتحاد کے کسی رکن ملک پر حملہ کیا تو نیٹو کی افواج نہ صرف حملہ آور فوج کو نشانہ بنائیں گی بلکہ اسے وسائل، مدد اور ہدایات فراہم کرنے والے نظام کو بھی تباہ کرنے کی کارروائی کر سکتی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، یورپ میں نیٹو کے سپریم الائیڈ کمانڈر امریکی فضائیہ کے جنرل الیکسس گرنکیوچ نے پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ایک سکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو ایک دفاعی اتحاد ہے، تاہم کسی بھی حملے کو ناکام بنانے کے لیے دشمن کی پیش قدمی روکنا اور اس کی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنا بھی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
جنرل گرنکیوچ نے واضح کیا کہ اگر کوئی ملک نیٹو پر حملہ کرتا ہے تو اتحاد بھرپور دفاع کرے گا اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا کہ کسی بھی رکن ملک پر حملہ ناکام ہو۔ ان کے مطابق، اگر مخالف فریق حملہ جاری رکھتا ہے یا مزید فوجی دستے میدان میں لاتا ہے تو نیٹو اس کے وسیع تر جنگی نظام کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ممکنہ کارروائی کا دائرہ صرف میدانِ جنگ میں موجود فوجی دستوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ان کی مدد کرنے، وسائل فراہم کرنے اور انہیں ہدایات دینے والے نظام کو بھی ہدف بنایا جا سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ متعدد یورپی حکومتیں ماسکو پر تخریب کاری، سائبر حملوں اور دیگر مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں، تاہم روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، روس نے گزشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ اگر نیٹو نے اس کے علاقے کالینن گراڈ کی ناکہ بندی کی کوشش کی تو وہ جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔ دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ روس کسی یورپی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
جنرل گرنکیوچ نے حالیہ تخریب کاری اور آتش زنی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان سرگرمیوں نے نیٹو کے رکن ممالک میں تشویش پیدا کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحاد کے ایک ارب شہریوں کو یقین ہونا چاہیے کہ نیٹو ممکنہ خطرات سے نمٹنے اور اپنے ارکان کے دفاع کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے امریکا کی جانب سے نیٹو کے اجتماعی دفاع کے عزم سے متعلق خدشات پر بھی بات کی اور جولائی میں انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر اتحاد کے لیے حمایت کا اظہار کیا تھا۔



