کلوئی کے گاؤں چڑیَل میں بچی کے گھر میں داخل ہونے کا معاملہ، بزرگ پر تشدد اور3خواتین پیش کرنے کا مطالبہ

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تعلقہ کلوئی کے گاؤں چڑیَل میں بزرگ منگلرام میگھواڑ پر مبینہ حملے اور تشدد کا معاملہ سامنے آگیا۔ بزرگ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک کمسن بچی کے گھر میں داخل ہونے کے معاملے پر فیصلہ کرانے کے دوران ان سے تین خواتین پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جس سے انکار پر انہیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔بزرگ منگلرام میگھواڑ نے میڈیا کے سامنے فریاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بچہ نیند میں چلنے کی عادت کے باعث بھٹک کر ان کے گھر پہنچ گیا تھا۔ ان کے مطابق، گھر میں شور ہونے پر بچہ جاگ گیا اور وہاں سے واپس اپنے گھر چلا گیا، جس کے بعد محلے کے لوگ قدموں کے نشانات کا تعاقب کرتے ہوئے ان کے گھر پہنچ گئے۔ منگلرام میگھواڑ کا کہنا ہے کہ انہوں نے معاملے کو حل کرنے، معافی مانگنے اور جرمانہ ادا کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی، لیکن اس کے باوجود ان کی تذلیل کی گئی اور مبینہ طور پر ان پر حملہ کرکے تشدد کیا گیا۔ بزرگ نے مزید الزام لگایا کہ فیصلے کے دوران ان سے کہا گیا کہ ’’تین عورتیں پیش کرو، پھر ان کا منہ کالا کریں گے، اس کے بعد تم سے بات کریں گے۔‘‘ ان کے مطابق، اس توہین آمیز مطالبے پر وہ فیصلے کے مقام سے اٹھ کر چلے گئے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق، منگلرام میگھواڑ مذکورہ بچے کے دادا ہیں اور وہ معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے اور جرمانہ ادا کرنے کے لیے بھی تیار تھے۔ بزرگ منگلرام میگھواڑ نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔



