لاہور ہائیکورٹ نے آئل مل ڈی سیل کرنے کا مجسٹریٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے بورے والا آئل مل کو ڈی سیل کرنے اور کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کا مجسٹریٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2011 کے تحت ایمرجنسی پروہیبیشن آرڈر کو برقرار رکھنے، تبدیل کرنے یا ختم کرنے کا اختیار متعلقہ فوڈ اتھارٹی کو حاصل ہے۔ قانون میں واضح اختیار نہ ہونے کی صورت میں مجسٹریٹ ایسا حکم جاری نہیں کر سکتا۔
جسٹس غلام سرور نہنگ نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ مجسٹریٹ کو فوڈ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ ایمرجنسی پروہیبیشن آرڈر ختم کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں تھا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے 16 اکتوبر 2024 کو بورے والا میں ملتان روڈ پر واقع بورے والا آئل مل کا معائنہ کیا۔ اس دوران ایک گاڑی میں تقریباً 30 ہزار لیٹر رینڈرڈ فیٹ آئل موجود تھا، تاہم موقع پر تیل کی جانچ سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ اور تجزیاتی سرٹیفکیٹ دستیاب نہیں تھے۔
فوڈ اتھارٹی نے پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ کی دفعہ 18 کے تحت ایمرجنسی پروہیبیشن آرڈر جاری کیا، جبکہ اسی روز تھانہ صدر بورے والا میں مقدمہ بھی درج کیا گیا۔
فیصلے کے مطابق آئل مل کے مالک نے مجسٹریٹ دفعہ 30 بورے والا سے رجوع کیا، جس پر 29 جنوری 2025 کو آئل مل ڈی سیل کرنے اور کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اس حکم کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
جسٹس غلام سرور نہنگ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 175(2) کے تحت کوئی عدالت قانون کی جانب سے تفویض کردہ اختیار کے بغیر اپنے دائرہ اختیار کو استعمال نہیں کر سکتی۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ کی دفعہ 18(2) کے مطابق فوڈ اتھارٹی متعلقہ فوڈ آپریٹر کو نوٹس دینے اور تحریری وجوہات ریکارڈ کرنے کے بعد ایمرجنسی پروہیبیشن آرڈر کی توثیق، اس میں ترمیم یا اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ مجسٹریٹ کو متعلقہ ایکٹ کے تحت جرائم کی سماعت کا اختیار حاصل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فوڈ اتھارٹی کے انتظامی احکامات بھی ختم کر سکتا ہے۔ قانون میں طے شدہ طریقہ کار کو نظرانداز کرکے کسی دوسرے فورم سے ریلیف حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے 2016 کے ضوابط میں سیل شدہ کاروباری جگہ کو ڈی سیل کرنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل کو مجاز اتھارٹی قرار دیا گیا ہے۔ مالی مشکلات یا لائسنس کی قانونی حیثیت سے متعلق مؤقف بھی کسی عدالت کو ایسا اختیار نہیں دے سکتا جو قانون نے اسے تفویض نہ کیا ہو۔
لاہور ہائیکورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ فیصلے میں فوڈ اتھارٹی کی اصل کارروائی کے میرٹ، رینڈرڈ فیٹ آئل کے محفوظ یا غیر محفوظ ہونے، لیبارٹری رپورٹس کی حیثیت یا ملزم کی فوجداری ذمہ داری کا تعین نہیں کیا گیا۔ عدالت نے صرف مجسٹریٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق قانونی سوال کا فیصلہ کیا ہے۔
عدالت نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی درخواست منظور کرتے ہوئے آئل مل ڈی سیل کرنے کا مجسٹریٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا، تاہم مل کے مالک کو قانون کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی سے رجوع کرنے کی اجازت دے دی۔ عدالت کے مطابق اس حوالے سے درخواست پر مجاز اتھارٹی مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت میرٹ پر فیصلہ کرے گی۔



