استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں نرمی پر آٹو مینوفیکچررز کا تحفظات کا اظہار

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) آٹو مینوفیکچررز نے حکومت سے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے نظرثانی شدہ فریم ورک میں دی گئی نرمی معطل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کمرشل درآمدات میں اضافے سے مقامی آٹو انڈسٹری اور وینڈر نیٹ ورک کو بڑے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آٹو مینوفیکچررز کے مطابق نئے فریم ورک کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں مزید آسانیاں پیدا ہونے سے مقامی صنعت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی آٹو انڈسٹری اور اس سے منسلک وینڈر نیٹ ورک کو 50 ارب روپے سے زائد نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمدات مئی میں صرف 48 یونٹس تھیں، جو جون میں بڑھ کر 843، جولائی میں ایک ہزار 938 اور اگست میں ایک ہزار 445 یونٹس تک پہنچ گئیں۔ ستمبر میں کمرشل درآمدات میں مزید اضافہ ہوا اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد 2 ہزار 276 یونٹس تک پہنچ گئی۔
پاماک کے مطابق 2025 کے فریم ورک میں نئی اور استعمال شدہ دونوں گاڑیوں کو ضابطے کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا تھا، تاہم نئے فریم ورک میں اسے صرف استعمال شدہ گاڑیوں تک محدود کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ درآمدی کمپنیوں کے لیے کم از کم سرمایہ اور بعد از فروخت سروس کی شرائط بھی ختم کردی گئی ہیں۔
نئے انتظام کے تحت گاڑیوں کے معائنے کی ذمہ داریاں انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) سے پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کو منتقل کردی گئی ہیں، جبکہ پی ایس کیو سی اے میں رجسٹرڈ کمپنیاں درآمد شدہ استعمال شدہ گاڑیوں کا معائنہ کرسکیں گی۔
آٹو مینوفیکچررز کا کہنا ہے کہ درآمد شدہ استعمال شدہ گاڑیوں کو 36 فیصد تک فرسودگی کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، جبکہ مقامی مینوفیکچررز پلانٹس، جدید ٹیکنالوجی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کرتے ہیں۔
ان کے مطابق بے قابو درآمدات سے مقامی گاڑیوں کی پیداوار، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ آٹو مینوفیکچررز نے حکومت پر زور دیا ہے کہ صارفین کے مفاد اور مقامی آٹو صنعت کے تحفظ کے درمیان متوازن پالیسی اختیار کی جائے۔



