ڈاکٹر لائسنس کے بغیر میڈیکل اسٹور نہیں چلا سکتا، وفاقی آئینی عدالت

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ رجسٹرڈ ڈاکٹر اپنے مریض کو دوا تجویز کرنے کے ساتھ فراہم بھی کرسکتا ہے، تاہم مطلوبہ لائسنس کے بغیر میڈیکل اسٹور یا ریٹیل ڈرگ آؤٹ لیٹ چلانے کی اجازت نہیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے یہ فیصلہ پشاور ہائیکورٹ کے ڈی آئی خان بینچ کے 5 جون 2023 کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سناتے ہوئے ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کے سیکرٹری کی جانب سے دائر اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔

مقدمے میں ڈاکٹر محمد رضوان راجپوت سمیت متعدد رجسٹرڈ ڈاکٹر فریق تھے، جن کے کلینیکل مراکز میں ڈسپنسریاں اور میڈیکل اسٹورز قائم تھے۔ ان پر الزام تھا کہ وہ مطلوبہ ڈرگ سیل لائسنس کے بغیر ادویات ذخیرہ اور فروخت کر رہے تھے۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق 21 جنوری 2020 کو متعلقہ حکام نے ان مراکز کا معائنہ کیا، ادویات قبضے میں لے کر فارم-6 جاری کیا جبکہ ڈاکٹروں کو شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے گئے۔ متاثرہ ڈاکٹروں نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، جس نے ضابطہ کار کارروائی روکنے کا حکم دیا تھا۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے 9 صفحات پر مشتمل فیصلے میں واضح کیا کہ میڈیکل ریگولیٹری ادارے میں ڈاکٹر کی رجسٹریشن اور فارمیسی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کے قانونی مقاصد مختلف ہیں۔ ڈاکٹر کی حیثیت سے رجسٹریشن اسے ڈرگز ایکٹ 1976 کے تحت لائسنس حاصل کرنے کی قانونی شرط سے مستثنیٰ نہیں کرتی۔

عدالت نے قرار دیا کہ فارمیسی ایکٹ 1967 کی دفعہ 31(4)(a) رجسٹرڈ ڈاکٹر کو اپنے مریض کو دوا دینے یا اپنے نسخے کو خود پورا کرنے کی اجازت دیتی ہے، تاہم اس شق کو میڈیکل اسٹور قائم کرنے یا تجارتی بنیادوں پر ادویات فروخت کرنے کا اختیار قرار نہیں دیا جاسکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ڈرگز ایکٹ کی دفعہ 23(1)(c) کے تحت لائسنس کے بغیر دوا فروخت نہیں کی جاسکتی اور قانون میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کے لیے اس حوالے سے کوئی خصوصی استثنیٰ موجود نہیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے ڈرگ انسپکٹر کی کارروائی کو بھی قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈرگز ایکٹ کی دفعات 17 اور 18 کے تحت انسپکٹرز کو معائنہ، ادویات کے نمونے لینے، تلاشی اور ادویات قبضے میں لینے کے اختیارات حاصل ہیں۔

عدالت نے آئین کے آرٹیکل 18 کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ پیشہ یا کاروبار کرنے کا حق قانون کے تحت مقررہ شرائط کے تابع ہے، جبکہ ادویات اور عوامی صحت کے شعبے میں لائسنسنگ نظام قانونی اور آئینی تقاضوں کے مطابق ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ شوکاز نوٹس کے مرحلے پر ہائیکورٹ کی جانب سے آئینی دائرہ اختیار استعمال کرنا قبل از وقت تھا۔ وفاقی آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ متعلقہ قانونی طریقہ کار کے مطابق نمٹانے کی ہدایت کردی۔

مزید خبریں

Back to top button