پی ٹی آئی کو بڑا سیاسی سہارا، جماعت اسلامی نے اے پی سی کی دعوت قبول کرلی، گورنر راج مسترد

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) جماعت اسلامی نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کرلی اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کردی۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ آئین کو معطل یا پامال کرنے والے کسی اقدام کی حمایت نہیں کی جائے گی۔

اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے وفد نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن سے ملاقات کی۔ وفد میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور سلمان اکرم راجہ سمیت دیگر رہنما شریک تھے۔

ملاقات کے بعد حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کرلی ہے۔ ان کے مطابق ملک میں امن و امان، معاشی صورتحال، عوام کے حقِ حکمرانی اور جمہوری عمل کی بحالی کے لیے متفقہ قومی ایجنڈے کی ضرورت ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی آئین کو معطل یا پامال کرنے اور موجودہ نظام کو مخصوص مقاصد کے لیے متاثر کرنے والے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کو بہت پہلے بامعنی مذاکرات شروع کردینے چاہئیں تھے، تاہم تاخیر کے باعث معاملات پیچیدہ ہوئے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے لیے کمیٹی کا قیام خوش آئند ہے لیکن بات چیت محض رسمی ملاقات یا فوٹو سیشن تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس سے عملی پیش رفت ہونی چاہیے۔

انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتوں پر پابندی کو بھی درست قرار نہیں دیا اور کہا کہ مذاکرات کے بعد انہیں ملاقاتوں تک رسائی ملنی چاہیے۔ حافظ نعیم نے عمران خان کی صحت سے متعلق تحفظات دور کرنے اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کا مطالبہ بھی کیا۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کا مقصد سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بٹھا کر ملک کو درپیش مسائل پر بات چیت اور ان کے حل کی راہ نکالنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کسی ایک سیاسی جماعت یا ادارے کا نہیں بلکہ عوام کا ملک ہے اور سیاسی و سماجی تقسیم ختم کرنے کے لیے تمام فریقوں کو بات چیت کرنا ہوگی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان 4 اکتوبر کے مجوزہ اسلام آباد لانگ مارچ، خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال اور گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکانات پر سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ تاہم یکم اکتوبر کو حکومت نے فوری طور پر گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کے بجائے سیاسی راستے سے صورتحال حل کرنے کے لیے مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

مزید خبریں

Back to top button