مدینہ حملے کے چند گھنٹے بعد بڑی کارروائی،صعدہ میں11اور تعز میں27فضائی حملے

صنعا (جانو ڈاٹ پی کے) سعودی عرب کے شہر مدینہ میں بجلی کی تنصیب پر حوثی ملیشیا کے ڈرون حملے کے چند گھنٹے بعد یمنی فوج نے دارالحکومت صنعا سمیت مختلف علاقوں میں حوثیوں کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
یمنی فوج کے مطابق صنعا، صعدہ اور تعز میں حوثیوں کے متعدد اہداف پر کارروائیاں کی گئیں۔ صنعا میں اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ صعدہ میں 11 اہداف پر کارروائی کی گئی۔
یمنی فوج کا مزید کہنا ہے کہ تعز میں حوثیوں کے ایک مربوط فوجی نظام کے خلاف 27 فضائی حملے کیے گئے۔
دوسری جانب سعودی عرب کی اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ 29 ستمبر کی صبح مدینہ میں طیبہ پاور اسٹیشن کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق ابتدائی تحقیقات اور ڈرون کے ملبے کے معائنے سے حملے کے ماخذ کا تعین کیا گیا۔طیبہ پاور اسٹیشن مسجد نبوی ﷺ کو بجلی فراہم کرنے والی تنصیبات میں شامل ہے۔ مدینہ میں بجلی کی تنصیب پر حملے کی مختلف اسلامی اور عرب ممالک کی جانب سے مذمت کی گئی ہے۔یمنی فوج کی جانب سے حوثی اہداف پر کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ماہ اتحادی افواج نے مکہ مکرمہ کی سمت بھیجے گئے ایک ڈرون کو شہر سے باہر مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ سعودی حکام نے حرمین شریفین کی سمت کسی بھی حملے یا خطرے کو انتہائی حساس معاملہ قرار دیا ہے۔حوثی ملیشیا صنعا اور یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھتی ہے، جبکہ سعودی عرب نے 2015 میں یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی تھی۔ اس کے بعد حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان ڈرون اور میزائل حملوں کا سلسلہ مختلف ادوار میں جاری رہا ہے۔



