غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کیس، متاثرہ ڈیانا کا دفعہ 164 کا بیان سامنے آگیا

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) ڈیفنس سی میں غیر ملکی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، عدالت میں دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرائے گئے متاثرہ خاتون ڈیانا کے بیان کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق تفتیشی افسر نے ڈیانا کو عدالت کے روبرو پیش کیا، جہاں عدالت نے اس سے شناخت اور بیان ریکارڈ کرانے کی وجوہات سے متعلق سوالات کیے۔ ڈیانا نے عدالت کو بتایا کہ وہ جانتی ہے کہ اسے بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیش کیا گیا ہے اور اس نے دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان قلمبند کرانے کی خواہش ظاہر کی۔

عدالت نے ڈیانا کو آگاہ کیا کہ اس کا بیان بعد میں اس کے خلاف بھی بطور ثبوت استعمال ہوسکتا ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق آگاہی کے باوجود ڈیانا نے بیان ریکارڈ کرانے پر اصرار کیا، جس کے بعد عدالت نے اطمینان کیا کہ وہ کسی دباؤ، دھمکی یا ترغیب کے بغیر رضاکارانہ طور پر بیان دے رہی ہے۔

ڈیانا نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ 13 ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد پہنچی اور پانچ روز فیصل آباد میں قیام کے بعد لاہور آگئی۔ اس کا ارادہ اسکردو جانے کا تھا تاہم اکیلے ہونے کے باعث اس نے اپنی جاننے والی نمرہ اور مسکان کو لاہور میں ملاقات کے لیے پیغام بھیجا۔

بیان کے مطابق ڈیانا رات تقریباً 11 بجے اکیلی ایک کیفے گئی، جہاں مسکان اس کے پاس آئی۔ بعد ازاں مسکان کے ساتھ وہ بحریہ ٹاؤن چلی گئی۔ ڈیانا کے مطابق رات تقریباً 2 بجے سفید رنگ کی گاڑی میں احمد اور محسن نامی دو افراد وہاں پہنچے اور وہ ان کے ساتھ ایک اپارٹمنٹ گئی، جہاں کچھ دیر بعد مزید دو افراد بھی آئے۔

عدالتی بیان کے مطابق ڈیانا نے بتایا کہ نمرہ اور محسن الگ کمرے میں بات کر رہے تھے جبکہ مسکان بھی ان کے پاس چلی گئی۔ اس کے مطابق نمرہ نے محسن سے 20 سے 30 ہزار روپے لیے اور بتایا کہ یہ رقم پارٹی کے لیے ہے۔

ڈیانا نے الزام عائد کیا کہ اس نے پیسوں اور شراب کی ضرورت نہ ہونے کا کہا تو محسن نے اسے مبینہ طور پر چھونے کی کوشش کی اور ایک الگ کمرے میں بند کردیا۔ اس کے مطابق جانے کی اجازت مانگنے پر اسے بتایا گیا کہ وہ نہیں جا سکتی کیونکہ اس کی دوست رقم لے کر جا چکی ہے۔

بیان میں ڈیانا نے مزید الزام عائد کیا کہ اس نے 30 ہزار روپے دینے کی پیشکش کی، تاہم علی زین نے اسے مبینہ طور پر دھمکی اور بلیک میل کیا اور کہا کہ پہلے ان کے ساتھ شراب پیے، جس کے بعد اسے جانے دیا جائے گا۔

ڈیانا کے مطابق اس کے بعد محسن، احمد اور علی زین نے اس کے ساتھ مبینہ زیادتی کی۔ اس نے بتایا کہ بعد ازاں اسے گاڑی میں بٹھایا گیا، جسے محسن چلا رہا تھا جبکہ احمد اور علی زین بھی گاڑی میں موجود تھے۔

متاثرہ خاتون کے بیان کے مطابق اس کے بیگ میں دو لاکھ روپے نقد، آئی فون 13 پرو میکس اور ریڈمی موبائل فون موجود تھا۔ اس کا الزام ہے کہ بار بار مطالبے کے باوجود ملزمان نے بیگ واپس نہیں کیا اور پولیس سے شکایت نہ کرنے کی ہدایت کی۔

دوسرا ملزم بھی گرفتار

دوسری جانب پولیس نے مقدمے میں نامزد دوسرے ملزم علی عزیل کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق علی عزیل کو بہاولپور سے حراست میں لیا گیا، جبکہ ایک اور ملزم محسن پہلے ہی پولیس کی گرفت میں ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار دونوں ملزمان سے تفتیش جاری ہے جبکہ مقدمے میں نامزد تیسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ واقعے سے متعلق مذکورہ تفصیلات متاثرہ خاتون کے عدالت میں دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرائے گئے بیان اور پولیس ذرائع پر مبنی ہیں۔ الزامات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین شواہد اور عدالتی کارروائی کے نتیجے میں ہوگا۔

مزید خبریں

Back to top button