عادل بازئی اور داوڑ کنڈی کی تھری ایم پی او حراست کے خلاف درخواست، عدالت کا آج حکم سنانے کا عندیہ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان قومی اسمبلی عادل بازئی اور داوڑ کنڈی کی تھری ایم پی او کے تحت حراست کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ عدالتی فیصلوں کی نقول طلب کرلیں۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتوں کے ایسے فیصلے موجود ہیں جن میں اس نوعیت کے حراستی احکامات کو کالعدم قرار دیا جاچکا ہے۔
بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ دونوں ارکان قومی اسمبلی کو پارلیمنٹ لاجز سے تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا۔ ان کے مطابق ایک اے ایس آئی کو یہ اطلاع دی گئی کہ دونوں ارکان امن و امان کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
وکیل نے حراست کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے عدالت سے کہا کہ ارکان قومی اسمبلی کو پارلیمنٹ لاجز سے کس قانونی اختیار کے تحت حراست میں لیا گیا۔ انہوں نے اپنے دلائل کے دوران کہا کہ ’’یہ بنانا ریپبلک نہیں ہے‘‘۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے بابر اعوان سے متعلقہ عدالتی فیصلوں کی نقول طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ فیصلوں کی کاپیاں ایک بجے سے قبل عدالت میں جمع کرائی جائیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ درخواست پر آج ہی حکم جاری کیا جائے گا۔ حالیہ عدالتی ریکارڈ کے مطابق عادل بازئی اور داوڑ کنڈی نے 20 ستمبر کو جاری کیے گئے تھری ایم پی او کے حراستی احکامات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔



