برطانیہ نے پناہ گزینوں کی آبادکاری اسکیم دوبارہ کھول دی

لندن(ویب ڈیسک) برطانیہ نے دنیا بھر میں پناہ کے مستحق افراد کے لیے محفوظ اور قانونی طریقے سے ملک میں آبادکاری کا راستہ فراہم کرنے کی غرض سے UK Resettlement Scheme دوبارہ کھولنے کا اعلان کردیا۔
برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی امیگریشن پالیسی میں انصاف کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی، جبکہ جنگ اور ظلم و ستم سے متاثرہ کمزور افراد کے لیے قانونی راستے فراہم کیے جائیں گے۔
برطانوی حکومت کے مطابق اسکیم فوری طور پر نئے ریفرلز کے لیے کھول دی گئی ہے اور ابتدائی مرحلے میں سیکڑوں پناہ گزینوں کو برطانیہ منتقل کیے جانے کی توقع ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ تقریباً 25 فیصد ریفرلز افغان خواتین و لڑکیوں اور فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے مختص کیے جائیں گے۔ اس پروگرام کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (UNHCR) اور International Refugee Assistance Project (IRAP) کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔
برطانوی حکام کے مطابق مستقبل میں قانونی پروگراموں کے ذریعے ملک میں آباد کیے جانے والے پناہ گزینوں کی تعداد چند ہزار سالانہ تک بڑھائی جاسکتی ہے، تاہم اس کے لیے سالانہ حد مقرر کی جائے گی۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ میں غیر قانونی ہجرت، خصوصاً چھوٹی کشتیوں کے ذریعے انگلش چینل عبور کرنے کے معاملے پر بحث جاری ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ محفوظ اور قانونی راستوں کو فروغ دینے کے ساتھ غیر قانونی آمد کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اسی دوران فرانس کے ساحل کے قریب ایک کشتی کے حادثے میں 10 سالہ بچے سمیت تین تارکین وطن ہلاک ہوگئے۔ فرانسیسی حکام کے مطابق کشتی میں 105 افراد سوار تھے، جبکہ دیگر مسافروں کو ریسکیو کرلیا گیا۔
برطانوی حکومت کے مطابق محفوظ اور قانونی آبادکاری کے راستوں کو وسعت دینا ملک کی وسیع تر امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے۔



