صفائی کی ناقص صورتحال پر قصور، فیصل آباد اور اوکاڑہ کے ایم ڈیز عہدوں سے فارغ

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) پنجاب حکومت نے صفائی کی ناقص صورتحال اور شہری شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے قصور، فیصل آباد اور اوکاڑہ کے ستھرا پنجاب کے مینجنگ ڈائریکٹرز کو عہدوں سے ہٹا دیا، جبکہ ناقص کارکردگی پر فارغ کیے گئے ایم ڈیز کو دیگر پوسٹنگ نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں ستھرا پنجاب پروگرام کی کارکردگی اور صوبے میں صفائی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران مختلف شہروں میں صفائی سے متعلق شکایات پر وزیراعلیٰ نے تشویش کا اظہار کیا اور متعلقہ افسران کی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایات جاری کیں۔
اجلاس میں ستھرا پنجاب کے فیلڈ مانیٹرنگ افسران (ایف ایم اوز) کی نگرانی کے لیے باڈی کیمروں کے استعمال کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ ڈپٹی کمشنرز کو ایف ایم اوز کی روزانہ بنیادوں پر مانیٹرنگ یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔ فیلڈ افسران کی نگرانی کے لیے باقاعدہ مانیٹرنگ سیکشن قائم کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔
اینٹی لٹرنگ مہم کے تحت سیف سٹی کیمروں کے ذریعے ڈیجیٹل چالان کا سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ڈور ٹو ڈور ویسٹ کلیکشن کے نظام میں بہتری کے لیے 15 روز کا ہدف مقرر کرتے ہوئے پنجاب بھر میں ستھرا پنجاب کا بیٹ سسٹم مکمل طور پر فعال کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب کی بیشتر تحصیلوں میں ستھرا پنجاب کے ورکرز کو بروقت ادائیگیاں مکمل کردی گئی ہیں، جبکہ تمام ڈویژنوں میں اینٹی لٹرنگ اسکواڈز بھی فعال ہیں۔ اسکواڈز کی جانب سے اب تک 77 ہزار 137 انسپیکشنز کی گئیں اور 9 ہزار 353 وارننگز جاری کی گئیں۔
بریفنگ کے مطابق گندگی پھیلانے پر 19 چالان کیے گئے، جبکہ لاہور میں اینٹی لٹرنگ اسکواڈ کی جانب سے 53 ہزار 186 انسپیکشنز کی جاچکی ہیں۔ سیف سٹی کیمروں کے ذریعے 2 ہزار 156 ڈیجیٹل چالان بھی جاری کیے گئے۔
حکام نے بتایا کہ پنجاب بھر میں کوڑا کرکٹ ڈالنے کے لیے 37 ہزار 852 مقامات پر بنز نصب کردی گئی ہیں۔ ستھرا پنجاب سے متعلق صوبے بھر سے مجموعی طور پر 6 لاکھ 76 ہزار 551 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 99 فیصد شکایات کا ازالہ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔



