امریکا سے تارکین وطن کی تیسرے ممالک منتقلی روکنے کا مطالبہ، یو این ماہرین کا انتباہ

جنیوا(ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ تارکین وطن کو تیسرے ممالک منتقل کرنے کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے، کیونکہ اس عمل سے ان کے بنیادی انسانی حقوق اور تحفظ کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق امریکا اب تک 23 ہزار سے زائد تارکین وطن کو 29 ممالک اور علاقوں میں منتقل کر چکا ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بعض افراد کو ایسے ممالک بھیجا گیا جہاں انہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بدسلوکی اور دیگر خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
یو این ماہرین نے کہا کہ خواتین، بچوں اور معذور افراد کو تیسرے ممالک منتقلی کے دوران خصوصی خطرات لاحق ہوتے ہیں، جبکہ کچھ تارکین وطن کو اپنے آبائی ممالک واپسی کی صورت میں ممکنہ ظلم و زیادتی کے خدشات کے باعث عدالتی تحفظ بھی حاصل تھا۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے امریکا پر زور دیا کہ تارکین وطن کی منتقلی سے متعلق ہر فیصلے میں انسانی حقوق، قانونی تحفظ اور عدمِ واپسی کے اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
ماہرین نے واضح کیا کہ ایسے افراد کو ان ممالک میں منتقل نہیں کیا جانا چاہیے جہاں انہیں تشدد، ظلم یا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا خطرہ لاحق ہو۔



